خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد 13 786 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1994ء یہ ساری کوششیں انشاء اللہ جاری رہیں گی یہاں تک کہ میں امید رکھتا ہوں کہ جو دو سال تک ہمارا ساتھ دیں گے وہ اپنی مرضی کی زبان آسانی سے سیکھ سکیں گے اور میری ہدایت یہ ہے کہ پہلے اردو کو اہمیت دیں اور پھر عربی کو اہمیت دیں اگر چہ عربی کو اولیت حاصل ہے مگر چونکہ میری زبان اردو ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اگر چہ عربی میں کتب لکھیں مگر زیادہ تر کتب اردو میں ہیں اس لئے عربی کے جو پیغام قرآن میں عطا ہوئے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ان کی وضاحتیں ہمیں ملیں وہ چشمے اردو میں جاری ہوئے ہوئے ہیں ۔ اس لئے کوئی تقابل کا سوال نہیں ہے وقت کی ایک حقیقی ضرورت ہے اور چونکہ ایک لمبے عرصے تک میں نظر رکھتا ہوں میرے خیال میں خلفاء اردو دان یہ رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کچھ اسی طرح کام کیا کرتی ہے کہ جہاں سے وہ نبوت کا انتخاب فرماتا ہے وہیں ایک لمبے عرصے تک خلافت کو بھی محدود رکھتا ہے اس لئے مجھے آئندہ کے لئے بھی یہی دکھائی دے رہا ہے کہ اردو کی ضرورت جاری رہے گی اور جو مزہ خطبے کا براہ راست سمجھنے کا ہے وہ ترجمے کا نہیں اور جو ترجمے کے ذریعے باتیں پہنچتی ہیں ویسے ہی وہ بعض دفعہ بیچ میں بگڑ جاتی ہیں اور پھر Running Translation تو بہت ہی مشکل کام ہے رنگ کمنٹری تو اور بات ہے لیکن رننگ ٹرانسلیشن میں ایک آدمی جب سنتا ہے ایک ترجمے کی خاطر تو اس کا ذہن بڑی تیزی سے کام کر رہا ہوتا ہے کہ اس کو میں کس طرح اپنی زبان میں پیش کروں اور جب وہ پیش کر رہا ہوتا ہے تو یہ اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ جو حصہ اس وقت کہا گیا ہے وہ اس کو سن سکے ۔ سنتا بھی ہے تو ایک ہلکا سا ، مبہم سا خیال اس کے دماغ پر نقش ہوتا ہے۔ پھر کوشش کرتا ہے آئندہ کو اس کے ساتھ جوڑنے کی اس لئے یہ ایک وقت کی مجبوری ہے ورنہ یہ بہترین پروگرام نہیں ہے لیکن اگر دو سال کے بعد دنیا میں ایک بھاری تعداد میں احمدی براہ راست خطبے سن سکیں اور ترجمے اس کے کر سکیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ شروع کر دیں تو ایک بہت بڑی نعمت ہوگی اور اس مضمون پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ ہے حقیقت میں کل عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا۔ جب یہ صورت ہو گی تو ایک حیرت انگیز یکسانیت پیدا ہو جائے گی دنیا میں ۔ احمدی جہاں جائے گا خواہ افریقہ کا احمدی ہو یا نجی کا ہو یا کسی اور ملک کا وہ ایک دوسرے سے بات کر سکتا ہے اس کو یقین ہے کہ ان پروگراموں سے ہر جگہ جماعت نے فائدہ اٹھایا ہے اور ایک World Lingu Franca ایسی وجود میں آئے گی جو