خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 770

خطبات طاہر جلد 13 770 خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1994ء کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ یہاں دوسرا جو فَضْلِ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق کے ذرائع ہیں اور بہت سی نعمتیں انسان کے لئے مقدر ہیں ان کے حصول کی کوشش کے تعلق میں بیان ہوا ہے۔ پس جہاں جمعہ رحمتیں لے کر آتا ہے وہاں فضل بھی لے کے آتا آتا ہے وہاں ہے۔ کیونکہ جب اللہ فرماتا ہے کہ جاؤ اب تم فضلوں کی تلاش کرو تو چونکہ فضل دینے والا بھی وہی ہے اس لئے جمعہ کے دن عام دنوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں۔ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرَ العَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور ذکر الہی سے غافل نہ ہونا۔ دست با کار ہو تو دل بایار رہے۔ اگر دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتے ہو تو اللہ کے ذکر کو نہ بھلانا۔اس تعلق میں حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے ہمیں خوشخبری دی کہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد غروب تک ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ سب دعائیں قبول فرما لیتا ہے تو یہ ایک ایسا بابرکت دن ہے جو ہر روز ایک لَيْلَةِ الْقَدْرِ کانشان لے کر ہمارے لئے طلوع ہوتا ہے اور ہر قسم کی روحانی اور دنیاوی برکتیں اس دن سے وابستہ ہیں۔ اگر چہ سبت کا ایک تصور اہل کتاب میں بھی پایا جاتا ہے مگر سبت کے اس تصور میں ان برکتوں کا تصور نہیں ملتا جو جمعہ کے تعلق میں بیان ہوئی ہیں۔ سبت میں تو جہاں تک دنیا کے فضلوں کا تعلق ہے ان سے کلیہ منہ موڑ لینے کا حکم ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ جمعہ کے دن خدا تعالیٰ نے روحانی برکتوں اور دنیاوی فضلوں کو اکٹھا کر دیا اور امت محمد یہ میں نعمت اپنے تمام کو پہنچی۔ آج کا دن اس لئے بھی بہت برکت کا دن ہے کہ آج کے جمعہ کے دن اس مسجد کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ایک رسمی افتتاح ہے جو ساڑھے چار بجے شروع ہوگا۔ ایک روحانی افتتاح ہے جواب اس خطبے سے اس جمعہ کے وقت شروع ہو چکا ہے اور آج اس مسجد میں کثرت کے ساتھ مختلف ممالک سے بھی احمدی احباب شریک ہوئے ہیں تا کہ وہ ان برکتوں سے خود شامل ہو کر حصہ پائیں اور اپنی آنکھوں سے خدا کے فضلوں کا نزول دیکھیں۔ اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مسجد کے افتتاح پر دنیا بھر کی جماعتوں کی کینیڈا کی مسجد کے مقابل پر زیادہ نمائندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ انڈونیشیا کے امیر بھی میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ غانا کے امیر بھی ہیں، ماریشس کے بھی ایک سابق امیر اور مخلص دوست۔ غرضیکہ جدھر نظر ڈالتا ہوں کوئی نہ کوئی امیر خواہ یورپ کا ہو، خواہ مشرق بعید کا ہو، خواہ افریقہ کا ہو نظر میں آتا ہے اور اس کے علاوہ کثرت سے کینیڈا سے بھی دوست تشریف