خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 761 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 761

خطبات طاہر جلد 13 761 خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1994ء کرتی ہیں اپنے بچوں سے وہ رورہے ہیں وہ کسی چیز کے لئے ضد کرہے ہیں اور وہ ضرور وعدہ کر دیتی ہیں کہ ہاں میں تمہیں یہ چیز لے دوں گی لیکن جانتی ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اور میں نہیں کروں گی ایسا۔ خاوند ایسے ہیں جو بیویوں سے وعدے کر دیتے ہیں۔ وہ مطالبے کرتی ہیں کہ ہاں ہاں یہ کام ہو جائے گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اور یہ وعدے روز مرہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں اس لئے بات کو اجنبی نہ سمجھیں کہ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو گا جو جان بوجھ کر وعدہ کرے جو اس نے پورا نہیں کرنا۔ اکثر ہم میں سے ایسے ہیں جو کم سطح پر سہی ، محدود دائرے میں سہی مگر وعدے ضرور کرتے ہیں جنہیں پورا کرنے کی نیت نہیں ہوتی اور اس کے نتیجے میں آئندہ جھوٹے وعدے کرنے والی قوم اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ بچے جن کے گھروں میں یہ بات ہو رہی ہو وہ بڑے ہو کر انہی باتوں پر اپنی روزمرہ کی زندگی میں عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آسان طریقہ مصیبت سے چھوٹنے کا یہ ہے کہ وعدہ کرو اور پھر اسے بے شک پورا نہ کرو۔ کا پورا صلى الله پس آنحضرت ﷺ کی ہر نصیحت بہت ہی گہری ہے اور ہماری زندگیاں سنوارنے کے لئے ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ جہاں آپ نظر انداز کریں گے وہاں ہماری زندگیوں کے اطوار بگڑ جائیں گے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دو باتیں ایسی ہیں کہ اگر کسی میں پائی جائیں تو وہ اس کے لئے کفر بن جاتی ہیں۔ یعنی جس شخص میں پائی جائیں خواہ وہ خدا کا منکر نہ ہو تب بھی اس کی ذات میں کفر کی گواہ بن جاتی ہیں ۔ کیونکہ ایسا شخص بنیادی طور پر کفر کی کوئی آمیزش اپنے اندر ضرور رکھتا ہے ورنہ اس میں یہ دو باتیں نہ پائی جائیں۔ ایک یہ کہ کسی کے حسب و نسب اور خاندان پر طعن کرے۔ اب جو جھگڑے ہیں ان میں خاندانی جھگڑے بہت سے ایسے ہیں جن کا اس بات سے تعلق ہے۔ کفر کا کیا اس سے تعلق ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ شخص ؟ جو یہ یقین نہ کرے کہ جو کچھ ہے خدا کی عطا ہے اور یہ سمجھتا ہو کہ ہم اپنی ذات میں بڑے ہیں یہ کفر بھی ہے اور تکبر بھی ہے اور دراصل تکبر کی بعض قسمیں کفر کہلاتی ہیں ۔ پس ان معنوں میں آنحضرت ا نے اس کو کفر قرار دیا اور کفر ہی ہے کوئی شخص اپنے خاندان کو بڑا سمجھے دوسرے کے خاندان کی طعنه آمیزی کرے تو یہ بات بیرونی طور پر جھگڑوں میں منتج ہوتی ہے مگر اگر گھروں میں پائی جائے تو گھر ہمیشہ کے لئے اجڑ جاتے ہیں اور عجیب بات ہے کہ یہ ایسی بیماری ہے جو آئے دن میرے سامنے آتی رہتی ہے