خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 720

خطبات طاہر جلد 13 720 خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1994ء شخص جس نے مزدور کی مرضی کے مطابق اجرت نہیں دی تھی تھا دیانتدار اور غلطی اس کی نہیں تھی اور اس کی دیانت کا امتحان ایسے ہوا کہ اس کے جانے کے بعد اس کی اجرت کو اس نے کام پر لگا دیا اور اسے بڑھاتا رہا اور چونکہ ذہین تھا اور اچھا تاجر تھا ، بھیڑ بکریوں وغیرہ کی تجارت کرتا رہا، اس سے اور ۔ اس کا مال بڑھتا رہا اور با قاعدہ اس کا حساب الگ رکھا۔ یہاں تک کہ ایک لمبے عرصے کے بعد وہ شخص بہت ہی زیادہ مفلوک الحال ہو گیا اور اسے خیال آیا کہ اب کچھ اور صورت نہیں ہے تو میں اس شخص سے جا کر وہی اجرت طلب کروں جو میں رد کر بیٹھا تھا۔ چنانچہ بہت لمبے زمانے کے بعد وہ واپس آیا وہ شخص ابھی زندہ تھا۔ اس سے جب اس نے کہا تمہیں یاد ہے کہ ایک ایسا وقت تھا کہ جو اجرت تم مجھے دے رہے تھے وہ لینے سے میں نے انکار کر دیا تھا اب میرے حالات بہت گر چکے ہیں اب میری یہ حالت ہے کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اپنی غیرت کو چبا جاؤں اور تم سے اس اجرت کا مطالبہ کروں ۔ اس نے کہا ہاں ٹھیک ہے یہ جو بھیٹروں کا غلہ دیکھ رہے ہو دو وادیوں کے درمیان ، یہ سب تمہارا ہے۔ یہ وہی اجرت ہے یہ لے جاؤ اس نے کہا دیکھو تم ایک مجبور اور بے کس انسان سے مذاق نہ کرو میں نے اجرت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے کہا مذاق نہیں یہ وہی اجرت ہے چونکہ میں سمجھتا تھا کہ میں دیانتدار ہوں اور میری دیانتداری کا تقاضا تھا کہ پھر تمہارے مال کو بے کار نہ پڑا رہنے دوں تو میں تمہاری خاطر اسے لگاتا رہا۔ اللہ برکت ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک دو بھیڑوں کی قیمت کا مال اب بڑھ کر اتنا بڑا گلہ بن گیا ہے کہ دو پہاڑوں کے درمیان وادی ان سے بھر گئی ہے۔ چنانچہ وہ خوش خوش اس گلے کو ہانک کر لے گیا۔ نہ اس نے اس سے اجرت مانگی اس کی نہ اس کو یہ خیال آیا کہ اس با خلق انسان کی دل آزاری کروں یہ کہہ کر، کہ کچھ تم اس میں سے میرا بدلہ لے لو۔ یہ اخلاق حسنہ کی آزمائش ہے یہ ایک مثال ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی جو مثالیں دیا کرتے تھے وہ فرضی نہیں ہوا کرتی تھی کیونکہ وہ شخص جو سچا ہو وہ فی الحقیقت اپنی مثالوں کے لئے بھی سچائی کی تلاش میں رہتا ہے اگر چہ ایک سچے آدمی کے لئے ایک فرضی مثال دینا منع نہیں ہے لیکن انبیاء کا حال کچھ عام انسانوں سے مختلف ہوا کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ تو تمام صلى الله عليه بچوں سے بڑھ کر سچے تھے اس لئے جب بھی میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی کسی پیش کردہ مثال کا مطالعہ کرتا ہوں تو کبھی کہانی کے طور پر نہیں بلکہ اس یقین کے طور پر کہ ایسا واقعہ ضرور کہیں نہ