خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد 13 712 خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1994ء گہری نظر سے مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ دراصل یہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ یہ نا ممکن ہے کہ اللہ سے اچھے تعلقات ہوں اور بندوں سے گندے اور مکروہ تعلقات ہوں ۔ کئی وجوہات سے یہ ناممکن ہے اول وہ وجہ جو میں پہلے بیان کرتا رہا ہوں کہ اگر خالق سے پیار ہے تو اس کی تخلیق سے بھی لازما پیار ہونا چاہئے ، اگر کسی شاعر سے محبت ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے شعروں سے نفرت ہو، کسی فنکار سے تعلق ہے تو اس کے فن سے بھی محبت ایک طبعی امر ہے یہ وہ بات ہے جو میں بارہا بیان کر چکا ہوں مگر اب میں اس مضمون کو ایک اور پہلو سے کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ اخلاق حسنہ ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجے میں انسان کا انسان سے تعلق بڑھتا ہے اور گہرا ہوتا جاتا ہے۔ بدخلق انسان ایک ایسی مکروہ چیز ہے جس کا اپنے گھر میں بھی تعلق قائم نہیں ہوتا۔ کوئی انسان خواہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو اپنے بچوں کے لئے خواہ وہ محلات ہی کیوں نہ کھڑے کر دے، ان کی اعلیٰ تعلیم کے بہتر سے بہتر انتظام ہی کیوں نہ کر دے، اگر وہ بد خلق ہے تو اس کے بچوں کو اس سے پیار نہیں ہوگا ، اگر وہ بدتمیز ہے تو اس کی بیوی اس کے کسی احسان کو نہیں مانے گی، ہمیشہ اس کی شاکی رہے گی ، اس کے خلاف شکوے کرتی رہے گی کہ میرا خاوند تم لوگوں کے لئے اچھا ہو گا مگر گھر کے لئے تو ایسا بد تمیز ہے کہ گھر کے سارے سکون کو اس نے غارت کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک بد خلقی جو ایک گھر میں تمام احسانات کا قلع قمع کر دیتی ہے اور کوئی تعلق قائم نہیں ہونے دیتی ۔ ایسی بد خلقی جس کے نتیجے میں وہ شخص حلقہ احباب میں بھی کوئی عزت کا مقام نہیں پاتا، ایسے شخص کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ اللہ کے دربار میں ایک اعلیٰ منصب پر فائز ہو گا حد سے زیادہ بے وقوفی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوپر بہت ہی بدظن رکھتے ہیں یہ لوگ ، جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے اخلاق تو ایسے ہیں کہ ایک بد خلق کی صحبت ہمیں سزا دیتی ہے، ہم پسند نہیں کرتے کہ اس کے پاس کچھ عرصہ بیٹھیں اور اس کے نتیجے میں ایک روحانی عذاب میں مبتلا ہوں۔ اپنے متعلق تو انسان یہ سوچے کہ بد خلقی کے نتیجے میں بیوی بھی خاوند کی نہیں رہتی، بچے بھی باپ کے نہیں رہتے مگر اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیسا ہی بد تمیز، بد خلق ، مکروہ اخلاق کا انسان ہو وہ اگر نمازیں پڑھتا ہے تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ یہ خیال انتہائی جاہلانہ خیال ہے اس میں کوئی ادنیٰ بھی حقیقت نہیں۔ بندوں سے زیادہ خدا نفیس ہے۔ ہم نے