خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد 13 705 خطبه جمعه فرمودہ 16 ستمبر 1994ء بارشیں بنتے ہیں وہ ان کے لئے یوں لگتا ہے جیسے آگ برس رہی ہو۔ سرتا پا جھلس جاتے ہیں اور اب تو ان کے گھر میں اندر بھننے کے انتظام ہو گئے ہیں۔ پتا نہیں کس نظر سے بیچارے دیکھتے ہوں گے کیا کیا وہ مسوس مسوس کے کے رہ جاتے ہوں گے کہ د گے کہ دیکھو یہ ہمارے سا۔ ر یہ ہمارے سامنے ہمارے خلاف دلائل دے ر ے خلاف دلائل دے رہا ہے، ہماری کچھ پیش نہیں جا رہی۔ زیادہ سے زیادہ ایک چیتھڑا ہے جنگ ، اس نے ایک مضمون لکھ دیا تو اس میں کون سی غمگین ہونے کی بات ہے وہ سب وہی بکواس ہے جس کے بار ہا جواب دیئے جا چکے ہیں اور بھی دیتے رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں نقصان نہیں پہنچ سکتا جماعت کو ۔ آج ہی کی ڈاک میں ایک خط میں نے دیکھا جس میں ایک بچی نے لکھا ہے کہ پاکستان میں میری ایک سہیلی تھی میں اس کو بہت تبلیغ کرنے کی کوشش کرتی تھی وہ سنتی ہی نہیں تھی لیکن جو پچھلے دنوں میں باسی کڑھی کو ابال آیا ہے اور جماعت کے خلاف پروپیگینڈا شروع ہوا۔ کہتی ہیں وہ پرو پیگنڈا پڑھ کر اس کو خیال آیا کہ چلو میں تحقیق کرلوں اور تحقیق کی تو آج میں یہ خوش خبری دے رہی ہوں کہ وہ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو چکی ہے۔ تو ان کے مقدر میں شکست ہی شکست ہے۔ ہارنا ان کا ایسا اٹل مقدر ہے جس سے یہ کسی قیمت بچ سکتے ہی نہیں ہیں۔ پس جوابی کارروائی اس کی یہی ہے کہ ان اکثریتوں کو اقلیتوں میں تبدیل کر دیا جائے اور یہی ہوگا۔ کوئی نہیں جو اس بات کو بدل سکے ۔ اور پس اہل ہمت بنیں ، بیٹھ کر رونے سے یا ٹسوے بہانے سے یا اپیلیں کرنے سے بھی کچھ نہیں بننا آپ کا۔ بڑی سے بڑی عدالتیں وہ ہیں جن تک آپ پہنچ چکے۔ انہوں نے کیا کیا ہے آپ کے ساتھ ۔ کوئی خیر کی توقع کے آثار ہوں تو کوئی توقع رکھے۔ جہاں ہر بات اپنی انتہا سے تجاوز کر چکی ہو وہاں آپ کیا توقع لگائے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں میں یہ منع نہیں کرتا آپ اپیلیں کریں لیکن جیسا کہ آپ نے خود ہی مجھے بتایا کہ ہمیں پتا تھا کہ کیا جواب آئے گا۔ آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ آئندہ اوپر سے کیا جواب آئے گا، اس سے اوپر سے کیا جواب آئے گا۔ آخرا بیل خدا کے حضور کرنی ہوگی وہاں سے جو جواب آئے گا اس کا بھی ہمیں علم ہے اور اسی جواب کی میں باتیں کر رہا ہوں۔ ایک جواب ہے جو آ چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ اٹھو اور آگے بڑھو اور غالب آؤ اور ان پر فتح حاصل کرو اور ان کی اکثریتوں کو اقلیتوں میں تبدیل کر دو کیونکہ تمہیں اسی لئے بنایا گیا ہے۔ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف: ۱۰) محمد رسول اللہ کے غلام ہو اور اس زمانے میں محمد رسول اللہ کے حق میں جو میں نے پیش گوئی کی تھی یعنی خدا یہ کہتا ہے کہ وہ