خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 680
خطبات طاہر جلد 13 680 خطبه جمعه فرموده 9 ستمبر 1994ء دائرے میں ہی ان باتوں پر غور ہونا چاہئے اور صفات الہی اگر براہ راست سمجھ نہ آئیں تو ان انسانوں کی پاک فطرت کے حوالے سے وہ سمجھ آ سکتی ہیں جنہوں نے کسی دائرے میں اپنی فطرت کی حفاظت کی ہوئی ہے وہ جب اپنے نفس میں ڈوب کر دیکھتے ہیں اپنے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کو حضرت اصلى صلى الله اقدس محمد مصطفی کا وہ کلام جو خدا کے بارے میں ہے سمجھ آنے لگتا ہے۔ ہاں ایک اور بات اس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ جب الله حضرت معاویہؓ نے یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو لوگوں پر اپنے دروازے بند کرتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان پر اس کے لئے دروازے بند کر دیتا ہے تو انہوں نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی شکایات کا مداوا کرے یہ حدیث نہیں ہے یہ حضرت معاویہ کا ایک رد عمل ہے جو بیان ہوا ہے اور میرے خیال میں یہ رد عمل اس حدیث کے مضمون کے عین مطابق نہیں ہے ایک امیر آدمی کا یا ایک بادشاہ کا کسی در بان کو مقرر کر دینا کسی ایک شخص کو مقرر کر دینا کہ لوگوں کی حاجتیں پوری کرتا پھرے یہ ہرگز اس حدیث کے منشاء کے مطابق بات نہیں ہے یہ الگ الگ مضمون ہے جو بادشاہوں کی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے ان کو ادا کرنی چاہئیں اس کا انسانی نفس سے تعلق ہے وہ شخص جس کا نفس بنی نوع انسان کی حاجت روائی کے لئے کھلا رہتا ہے جس کی فطرت کے دروازے ہمدردی کے ساتھ خدا کے مجبور اور مقہور اور معذور بندوں کے لئے کھلے رہتے ہیں اور اس کا فیض ان دروازوں سے ہمیشہ ان کے لئے جاری رہتا ہے یہ وہ مضمون ہے جس کا آسمان کے دروازے کے کھلنے یا اس کے برعکس ان کے بند ہونے سے تعلق ہے۔ پس وہ لوگ جو فطرتا بنی نوع انسان کی ہمدردی میں مگن رہتے ہیں ان کی فطرت ہر وقت تقاضا کرتی ہے کہ ضرورت مند کی ضرورت پوری کی جائے بیمار کو شفا بخشی جائے اور مصیبت زدگان کی مصیبت کا حل کیا جائے وہ ہیں جن کے دروازے کھلے ہیں نہ کہ وہ جو دربانوں کو ہدایت کر دیں کہ کسی کا خیال رکھو یا ملازموں کو ہدایت کر دیں۔ پس یہ پاک تبدیلی اگر فطرت کے اندر پیدا ہو جائے اور انسانی فطرت کے دروازے خدا کے محتاج بندوں کے لئے کھل جائیں تو اس حدیث کا جو برعکس مضمون ہے وہ بھی لازما صادق آتا ہے کہ آسمان کے دروازے ان پر کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی ضروریات کا خود خیال فرماتا ہے۔ یہ جو احادیث ہیں ان کا حوالہ میں دینا بھول گیا تھا ابوالحسن سے جو حدیث روایت ہے یہ