خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 653
خطبات طاہر جلد 13 653 خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 1994ء لیکن قومی ظلم و ستم میں کسی طرح سے کسی سے پیچھے نہیں۔ مگر بہر حال جہاں فرڈ افرڈ اکسی کے حقوق کی ادائیگی کا سوال ہے، سچ بولنے کا سوال ہے، لین دین میں دیانتداری کا سوال ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی اقوام، مشرقی اقوام کے مقابل پر غیر معمولی طور پر اسلام کے قریب ہیں اور یہ خوشکن پہلو ہے جس کو دیکھ کر ان کے لئے نجات کی امید پیدا ہوتی ہے مگر وہ مشرقی اقوام جو دن رات مذہب کا پر چار کرتی ہیں مذہب کے نام پر ہر قسم کی زیادتی بھی جائز سمجھتی ہیں اپنے نفس پر زیادتی کی قائل نہیں ہیں۔ اپنے نفس کو ذبح کر کے خدا کے حضور حاضر کر دینے کی قائل نہیں ہیں۔ جہاں ان کے ذاتی مفادات کا قومی مفادات سے ٹکراؤ ہو، جہاں ان کے ذاتی مفادات کا مذہبی مفادات سے ٹکراؤ ہو ، اعلیٰ روحانی اقدار کا تصادم ہو وہ ہمیشہ اعلیٰ اقدار کو اپنی ذلیل ادنی اقدار پر قربان کرتی چلی جاتی ہیں۔ یہ وہ گہرا نقص ہے جو لین دین کے معاملات میں سب سے زیادہ کر یہ صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ لین دین کے معاملات میں ہمارے اکثر مشرقی ممالک میں اتنی کر یہہ صورت ہے، اتنی مگر وہ صورت ہے کہ وہ صورتحال دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا کہ ان سوسائٹیوں کا حقیقہ مذہب سے کوئی تعلق ہے۔ ہمارے سپرداگر ہم آخرین ہیں، اگر ہم وہی ہیں جن کا سورۂ جمعہ میں ذکر فرمایا گیا نہ صرف اپنے خلق کو آنحضور ﷺ کے خلق کے مطابق کرنا ہے بلکہ ان تمام قوموں کے اخلاق میں بھی پاک تبدیلی پیدا کرنا ہے اور ہماری بعثت کا اولین مقصد ہے۔ پس اس پہلو سے جماعت میں جہاں داغ داغ یہ کمزوریاں دکھائی دیتی ہیں اس سے غیر معمولی تکلیف پہنچتی ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ نسبتا یہ چادر سفید ہے مگر یہاں نسبت کا معاملہ ایک دھو کے والا معاملہ ہے۔ جب آپ کہتے ہیں جماعت احمد یہ نسبتا، بہتر ہے تو موازنہ کرتے ہیں ان بدوں سے جو تمام تر بدیوں میں ڈوبے پڑے ہیں ان کے مقابل پر تو اچھا ہونا کوئی خوبی اور تعریف کی بات نہیں ہے۔ اس پر تو یہی محاورہ صادق آتا ہے کہ ”اندھوں میں کانا راجہ کا نا ہونا ایک عیب ہے اور عیب ہی رہے گا ہاں اگر اندھوں کی دنیا میں اس کو راجہ منتخب کر لیا جائے تو یہ موازنہ کر کے کہ دیکھیں اندھوں کا راجہ ہے آپ اس کے عیوب کو دور تو نہیں کر سکتے ۔ پس مواز نہ کرنا ہے ان سے جن سے خدا نے کیا ہے یعنی اولین سے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ وَالَّذِينَ مَعَةً (الفتح : 30) اور ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے ساتھ تھے۔ جنہوں نے آپ سے اخلاق سیکھے ان سے جب موازنہ ان سے جب مواز نہ کریں تو اپنی نیکیاں بھی داغ داغ دکھائی دینے لگتی ہیں۔