خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد 13 642 خطبه جمعه فرموده 26 را گست 1994ء میں ہے؟ اس سے کیسے بات کرنی چاہئے؟ ایک چہرے پر غم کے آثار ہیں تو کسی بہت بڑے فلاسفر کی ضرورت تو نہیں کہ ان غم کے آثار کا باریکی سے مطالعہ کرے اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ لطیفے کی بات مناسب ہے کہ نہیں غم کی کئی قسمیں ہیں، کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، کئی دفعہ فکر سے بھی ویسے اثرات ظاہر ہو جاتے ہیں جیسے غم سے ہوتے ہیں لیکن چہرے کا مزاج بتا دیتا ہے کہ اس وقت کیسی بات کرنی ہے اور کیسی نہیں کرنی۔ پس نصیحت میں یہ ساری باتیں دیکھی جاتی ہیں کئی دفعہ کسی کی موجودگی یا عدم موجودگی کا بھی نصیحت پر بہت اثر پڑتا ہے۔ بھری مجلس میں آپ ایک بات کہیں تو اس کا اور رد عمل ہوتا تو اور دما ہے الگ بات کریں تو اور رد عمل ہوتا ہے۔ جرمنی ہی سے مجھے کسی نے ایک ٹرکش میٹنگ کے متعلق لکھا تھا کہ ہم نے بہت سے ٹرکش احباب بلائے اور جیسا کہ آپ نے کہا تھا ٹرکش علماء کو بھی بلاؤ اور جب ہم نے تبلیغی گفتگو شروع کی تو ٹرکش عالم صاحب چونکہ ان کو جواب نہیں آتا تھا اپنے سارے ساتھیوں کو لے کر وہاں سے رخصت ہو گئے ۔ اب یہ ایک مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ نصیحت کا مضمون کتنے گہرے بار یک مطالعہ کو چاہتا ہے۔ میں نے ان کو یہ نہیں کہا تھا کہ آپ ٹرکش علماء کو ان کے مریدوں کی موجودگی میں بلا کر ان سے بخشیں کریں۔ میں یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان لوگوں میں ایک انانیت پائی جاتی ہے۔ تقویٰ کا وہ اعلیٰ معیار نہیں ہے اگر یہ دیکھیں گے کہ ہمارے مریدوں کے سامنے ہماری سبکی ہو رہی ہے تو سب کو ساتھ لے کر اٹھ کھڑے ہوں گے رتا ہے۔ اور چاہے قرآن کی دلیل سے ہار کھا رہے ہوں، ان کا نفس اپنے آپ کو ذلیل ہوتا ہوا محسوس کرتا ۔ پس حکمت کے تقاضے بہر حال پورے کرنے ہیں اور نصیحت کرتے وقت حکمت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ نصیحت میں اپنی ذات میں ایک ایسی بات پائی جاتی ہے کہ سننے والا طبعا اس کے خلاف رد عمل دکھائے گا ۔ پس ایسی طرز سے نصیحت کرنا کہ اس کے رد عمل کا کوئی امکان باقی نہ رہے اور طبعی منافرت کے باوجود وہ شخص نصیحت کو قبول کرے یہ وہ فن ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیروی ہی سے حاصل ہو سکتا ہے اس کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتا۔ غیر معمولی اثر کرنے والی نصیحت ہوتی تھی آنحضور کی اور بظاہر اس نصیحت کو کسی فصیح و بلیغ کلام سے سجایا نہیں گیا مگر عام سادہ جملے بھی دلوں میں ڈوب جاتے تھے اور حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا کرتے تھے۔ کوئی دیکھنے والا یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ کلام مرصع نہیں ، یہ خاص سجایا نہیں گیا لیکن امر واقعہ