خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد 13 620 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء ان کو میں بتا رہا ہوں ۔ دجال کی تو آنکھ کافی ہوئی چلو، تمہاری آنکھ کو کیا ہو گیا ہے تمہیں کیوں نہیں دکھائی دیتا۔ لیکن نہیں دیتا تو پھر دعا کرو، دہائی ڈالو، شور مچاؤ ، اندھے بے چارے نہیں چل سکتے تو دیتا تو شور مچاؤ، اندھے بے تو پوچھتے تو ہیں نا کہ آؤ بھئی ہمیں رستہ دکھاؤ تو یہ بھی نہیں کر رہے۔ دہائیاں دو خدا کے حضور گریہ وزاری کرو اور قوم کو متوجہ کرو۔ قوم کو کہو دیکھو تم مر رہے ہو اور مرتے چلے جاؤ گے کوئی اور طاقت تمہیں بچا نہیں سکتی ہم جھوٹ بولتے تھے اگر ہم کہتے تھے کہ ہمارے پاس آؤ ہم تمہیں بچالیں گے۔ خاتم النبیین والے مولوی بنے ہوئے ہیں ان کو اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہماری توبہ، ہم کون ہوتے ہیں تمہیں ان کے حملوں سے بچانے کے لئے جن کو ہم سمجھتے ہیں کہ خاتم النبیین " پر حملہ ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ اگر بچانے والا ہے تو آسمان پر بیٹھا ہوا ہے پہلے اس کو ا تا روساری قوم گریہ وزاری کرے، صدقے دے، دعائیں کرے، اور دعاؤں کا مضمون گدھے سے شروع ہوگا۔ یہ دعا کرے اے اللہ وہ گدھا تو پیدا کر دے جس کی پیٹھ پر سوار ہو کر دجال نے سفر کرنے ہیں تا کہ اگر ہمارا داؤ چلے تو گدھا ہی مار دیں۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اور دجال سے دنیا کا پیچھا چھڑا ئیں مگر خیرا اگر ری یہ مقدر نہیں ہے تو گدھا پیدا تو کر ۔ وہ آگ کھا کے چلے اور اتنے لمبے لمبے سفر کرے اور وہ پیٹھ پر گندم کے پہاڑ لاد کر غریب قوموں کی مدد کے لئے نکلے ۔ یہ اب کچھ نظر نہیں ان کو آ رہا۔ ابھی سب ہونا ہے تو پھر واویلا کریں کہ اے خدا اس گدھے کو پیدا کر جس کے بعد پھر دجال آئے وہ سواری کرے پھر ہمیں خوب مارے یہاں تک کہ ہم سب مٹ جائیں صرف ستر ہزار باقی رہ جائیں اور ان کے ناکوں میں بھی دھواں چلا جائے دجال کا ۔ جب یہ سب کچھ ہو جائے تو پھر ہم کہیں گے اے خدا مسیح کو اتار تو سب کچھ تو ہونے والا پڑا ہوا ہے، تمہیں ہوش ہی کوئی نہیں مسیح کے لئے دعا ئیں نہیں کر رہے اس لئے سارے جھگڑے ایک طرف چھوڑو اور مسیح کو پکارو آسمان سے اور مسیح کے آنے کی تیاری کر و یعنی گدھا مانگو، دجال مانگو اور پھر ان کی ہلاکت کی دعائیں کرو گے تو وہ مریں گے جب پیدا ہی نہیں ہوئے انہوں نے مرکہاں سے جانا ہے بیچاروں نے ۔ یہ مضمون سمجھایا تھا اور جب غیر احمدی مجالس میں آیا کرتے تھے اور مجھ سے باتیں سنتے تھے تو ہنس پڑتے تھے۔ میں حیران ہو کے ان کو دیکھتا تھا، اتنا سنجیدہ عقیدہ میں بیان کر رہا ہوں یہ ہنس رہے ہیں ۔ بعض لوگ قہقہے مارنے لگ جاتے تھے۔ پھر جاتے اسی مولوی کے پاس ہیں جو خدا تعالیٰ کی بیان