خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد 13 614 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء اسی صلى الله رستے پر ڈا کو پڑتے ہیں، یہاں سانپ بچھو ہیں یا مہلک جانور ہیں تو بظاہر تو یہ ڈرانا ہے لیکن ایسا ڈرانا کہ اگر اس کے فائدے اٹھا ئیں تو اس میں بشارت مضمر ہے خود بخود اس کی کوکھ سے خوشی نکلتی ہے اور کا نام بشارت ہے۔ چنانچہ جب کوئی و جب کوئی واقعہ ہو جائے مثلاً آپ کہتے ہیں کہ یہ بس خطرناک ہے یہ ڈرائیو بڑا خطرناک ہے اس پر نہ بیٹھو اور کوئی نہیں بیٹھتا اور اس بس کو حادثہ پیش آ جاتا ہے تو دیکھیں کتنی مدت گھروں میں باتیں ہوتی ہیں کہ دیکھو اللہ نے کیسا بچایا، عین وقت پر ہمیں تنبیہ کر دی گئی اور ہم بیچ گئے تو ایک وقت کا ڈرانا عمر بھر کی خوشخبری بن جایا کرتا ہے۔ تو نذیر کے اندر بھی تبشیر کا مضمون داخل ہے پس اس پہلو سے نذیر بننے کے دن آ چکے ہیں ، ضرورت ہے کہ ہم اپنی قوم کو ہر جگہ خصوصیت سے ان علماء کو ڈرائیں جنہوں نے فتنوں کی حد کر دی ہے، ہر حد سے تجاوز کر چکے ہیں پوری طرح بے حیا ہو چکے ہیں، جانتے ہیں کہ جھوٹ ہے بولے چلے جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک ایسا ہے اگر ہر ایک نہیں تو بھاری اکثریت ایسی ہو گی کہ اگر ان کو خدا کا خوف دلا کر اپنے بچوں کی قسم دی جائے اور کہا جائے کہ بتاؤ کیا جماعت احمد یہ کا یہی عقیدہ ہے کہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اکثر ان میں سے قسمیں نہیں کھائیں گے۔ جب ان کو مباہلے کے چیلنج دیئے گئے تھے تو سارے بہانے کر کے دوڑ گئے تھے کیونکہ وہ ایسی ہی باتیں تھیں جو بیان کی گئی تھیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ تم کہتے ہو فلاں تحریر سے یہ نکلتا ہے۔ فلاں تحریر سے یہ نکلتا ہے، میاں بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر لکھی جس کا یہ مطلب نکلتا ہے، حضرت مصلح موعودؓ نے یہ کتاب لکھی اس کا یہ مطلہ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے۔ ہزار جھوٹے مطال بھوٹے مطالب نکال کر جو جماعت احمدیہ کے عقائ برخلاف ہیں اور ایک بھی احمدی ان تحریروں سے وہ مطلب نہیں نکالتا، نہ ان مطالب پر ایمان رکھتا ہے۔ اگر تم واقعہ خدا کے حضور سچے ہو اور کہتے ہو کہ ہاں یہی سچ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں اور ہر احمدی کا یہ عقیدہ ہے تو پھر میں مباہلے کے لئے تمہیں بلاتا ہوں اسی بات پر مباہلہ کر لو۔ دیکھو کیسے کیسے بہانوں سے فرار کئے۔ فلاں جگہ پہنچو اور فلاں جگہ آؤ اور ایسی شرطیں باندھیں کہ جانتے تھے کہ یہ شرطیں نا معقول ہیں اور نہ ان کو کوئی پورا کرے گا اور اگر کرتے بھی تو انہوں نے دوڑ جانا تھا وہاں سے ۔ پس یہ حالت ہے ان کے نفس ان کو مجرم بنائے ہوئے ہیں ان کے نفس ان کو بتاتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو اور ساری دنیا اب یہ کہنے لگ گئی ہے۔ پاکستان سے جولا سے جو لوگ آ رہے ۔ آ رہے ہیں کئی دفعہ ان سے ؟ سے بات ہوئی تو وہ عقائد کے