خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 585
خطبات طاہر جلد 13 585 خطبه جمعه فرموده 5 را گست 1994ء صلى الله اہل قرآن بن کر تمام سعادتیں محض اس کتاب سے محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت کے بغیر حاصل کیا صلى الله ۔ کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اس کے دعویدار ہو تو کچھ کر کے دکھا دو۔ کیا تم نے دنیا میں انقلاب برپا ہے۔ وہ صحابہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد پروانوں کی طرح تھے وہ تو تم سے تعداد میں کم تھے اور کمزور تھے انہوں ۔ تھے انہوں نے تو ساری کائنات کی کایا پلٹ دی تھی۔ تمام ماحول انقلاب کا ماحول بنادیا تھا تم آج اسی طرح باتیں کرتے ہو قرآن کے ساتھ تعلق کی ، جھوٹ ہے اور تعلق تو حقیقت میں دماغ سے نہیں دل سے ہوا کرتے ہیں اور دل کے تعلق میں محبت کے تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں اور محمد مصطفی اللہ سے بھی کوئی تعلق فرضی نہیں ہو سکتا جب تک قلبی نہ ہو اور قلبی تعلق ہی ہے جو انسان کی کایا پلٹتا ہے۔ عروسه ا الله الَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ میں قلب کی باتیں ہو رہی ہیں دماغ کی باتیں کہاں ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ تمہیں خوب سمجھا دیا ہم نے اب بات سمجھ لو اور اس پر قائم ہو جاؤ۔ فرماتا ہے ہم نے دلوں کو باندھا ہے ورنہ اچھی بھلی باتیں سمجھ آ جاتی ہیں پھر بھی اگر دلوں میں روحانیت نہ ہو زندگی نہ ہو تو وہ باتیں انسان کے کچھ بھی کام نہیں آتیں۔ پس فرمایا اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا تم اللہ کی نعمت کے ذریعے بھائی بھائی بنے ہو۔ اب وہ نعمت جب اٹھی یعنی نبوت کی ساری برکتیں تو نہیں اٹھیں مگر محمد رسل اللہ ﷺ کا وجود بنفسہ اس دنیا سے اٹھ گیا اس وقت وہی قرآن تھا وہی مسلمان تھے اچانک دیکھا آپ نے کیا واقعہ رونما ہوا۔ کس طرح وہ پھر لڑ پڑے ہیں آپس میں ، کس طرح ایک قیامت سی برپا ہوگئی۔ سارے عرب میں ہر طرف فتنوں نے سر اٹھا لئے ۔ وہ کیا تھا اور کیا نہیں تھا لیکن جو اس مسئلے کو حل کرتا ہے کہ اچانک یہ کیوں تغیر پیدا ہوئے۔ بعض مستشرقین سے جب گفتگو ہوا کرتی تھی پہلے ، تو وہ میرے سامنے یہ بات طعن کے طور پر رکھتے تھے کہ اسلام نے کیا انقلاب برپا کیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں چند دن تک اور بعد میں دیکھو کس طرح فساد برپا ہو گئے تو ان کو میں کہتا تھا کہ تمہیں دیکھنے کی آنکھیں نہیں ہیں۔ آنحضرت مال کے عظیم مرتبے پر یہ باتیں گواہ ہیں اور اس سے بڑی گواہی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ عرب جن کا یہ مزاج تھا ان کو کس طرح ایک جان بنا کے رکھ دیا، ایک قالب میں تبدیل کر دیا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دل کے ساتھ وہ سارے دل ہم آہنگ ہو گئے تو جب آنحضور ﷺ نہ رہے تو وہ بات نہ رہی جو آپ تعليق