خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد 13 537 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء کرشن آتا ۔ آتا تا ہے اور اپنے آپ کو منوا کر مطمئن ہو کے چلا جاتا ہے۔ رائم نازل ہوتا ہے اور اپنے آپ کو منوا کر چلا جاتا ہے۔ عیسی علیہ السلام بھی اپنی منوا کر چلے گئے ۔ اور موسیٰ نے بھی یہ شرط نہیں داخل کی اپنے ایمان میں کہ جب تک دوسرے انبیاء کو بھی نہ مانو مجھے تم تسلیم نہیں کر سکتے ۔ ایک ہی وہ رسول اصلى الله آپ کو یہ تعلیم بخشی کہ تھا یعنی محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی تفہیم توحید کا ایک عظیم جلوہ ہے کہ خدا نے آپ کو بہ جب تم کہتے ہو لا إلهَ إِلَّا الله ، تو خدا کا کوئی شریک نہیں لیکن نبی بہت ہوں گے اور ہر ایک کی تمہیں قف صلى الله عزت کرنی ہوگی اور ہر ایک کو بعض پہلوؤں سے برابر دیکھنا ہو گا چنانچہ یہ اعلان حضرت محمد مصطفی کی طرف منسوب فرمایا گیا أَمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ یہ رسول ان سب باتوں پر ایمان لے آیا ہے جو اللہ کی طرف سے اس رسول پر اتاری گئیں ۔ ( ان باتوں کی خبر ابھی پاکستان کو نہیں پہنچی)۔ امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ اور سارے مومن جو محمد رسول اللہ کے مومن ہیں وہ ایمان لے آئے ہیں ان باتوں پر كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِه ایک رسول پر ایمان نہیں لائے ۔ تمام کے تمام اللہ پر ایمان لے آئے ہیں فرشتوں پر ایمان لے آئے ہیں ایک کتاب نہیں تمام کتابوں پر ایمان لے آئے ہیں شرک فی القرآن بھی اب اس کو آپ کہہ دیجئے ۔ وَرُسُلِہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ اور کہتے ہیں ہم عہد کرتے ہیں اے خدا کہ ہم تیرے بھیجے ہوؤں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کریں گے اور ایک ہو یا لاکھ ہوں ہمارے نزدیک یہ شرک فی النبوۃ نہیں ہے، یہ توحید ہی کا کرشمہ ہے کہ اس توحید سے جتنے جلوے پھوٹیں گے وہ سارے سر آنکھوں پر ، ان سب کے سامنے ہم سر تسلیم خم کریں گے۔ یہ ہے قرآن کا بیان ۔ یہ ہے قرآن کی رو سے توحید فی الوہیت اور توحید فی الرسالت۔ پھر کہتے ہیں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ اے خدا ہمارے لئے اس کے سوا اب رہا کیا ہے کہ سنیں اور اطاعت کریں اور وہ آواز جس رسول کی طرف سے آئے اگر وہ تیری آواز ہے اور تبدیل نہیں ہوئی تو ہر آواز سر تسلیم خم کرنے کے لائق ہے۔ چنانچہ حضرت کو پرانے انبیاء کی باتیں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَبِهُدهُمُ اقْتَدِهُ اے محمد ان سب رسولوں کی ہدایت کے مطابق تو بھی پیروی کر ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محمد رسول اللہ جو سب مصطف اصلى الله محمد مصطفی علی الا الله