خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 533

خطبات طاہر جلد 13 533 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء اور حکومت کے۔ صدر صاحب فرماتے ہیں توہین رسالت کا اصل قانون برقرار رہے گا اس قانون میں نہ ترمیم کی ہے نہ ایسا کرنے کا ارادہ ہے ( روزنامہ جنگ لاہور ۔ 8 جولائی 1994ء) سرکاری ترجمان کا مساوات میں بیان بیان شائع ہوتا ہے توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ ترمیم ممکن ن نہیں نہیں ۔ ۔ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی حکومت نبی کریم کی فضیلت اور احترام پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اس قانون میں ترمیم کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو معاف کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں“ ( روزنامہ مساوات 19 جولائی 1994ء)۔ وفاقی کابینہ نے کہا ”توہین رسالت کی سزا کم ہوگی نہ قانون بدلے گا (روزنامہ پاکستان لاہور - 12 جولائی 1994ء) پھر وفاقی کابینہ کا ایک بیان ہے کہ حکومت اس حد تک جانے کو تیار ہے یعنی ہمارا پیچھا چھوڑ و خدا کے لئے حکومت اس حد تک جانے کو تیار ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو تین مرتبہ پھانسی دی جائے ( روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ 12 جولائی 1994ء) تین مرتبہ کہتے ہیں ہم پھانسی دیں گے خدا کے واسطے معاف کر دو ہمیں ۔ توہین رسالت کے قانون میں تخفیف یا تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ اعلان جو ہے تین مرتبہ پھانسی کا کا بینہ کی طرف سے جاری ہوا ہے، وزیر اعظم بھٹو صاحبہ کی کیبنٹ اعلان کر رہی ہے کہ ہم اس پر بھی تیار ہیں ہمیں معاف کر دو۔ وو پھر کہتے ہیں کھلی ہی نہیں بلکہ مخفی گستاخی کرنے والا بھی پکڑا جائے گا یہ بڑا دلچسپ ہے محاورہ مخفی گستاخی ۔ کیونکہ جہاں گستاخی دکھائی نہ دے وہاں مخفی گستاخی تو ہر جگہ بیان کی جاسکتی ہے۔ اور وہی قصہ ہے جو چل رہا ہے ملک میں ۔ کہتے ہیں توہین رسالت کے قانون میں تخفیف یا تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا رسول اکرم کی شان میں کھلی یا مخفی گستاخی کرنے والا سزائے موت کا حق دار ہے“ (بیان اقبال حیدر وزیر قانون و انصاف روزنامہ خبریں ۔ 7 جولائی 1994 ء صفحہ (8) ۔ یہ اقبال حیدر صاحب کا بیان آ گیا ہے کہتے ہیں "گستاخ رسول کے لئے موت سے بڑھ کر کوئی اور سزا ہوتی تو اس پر بھی عملدرآمد کرتے تو ہین رسالت کے مرتکب بدبختوں کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ ہے نہ کوئی مقام ہم جیسے غلام مصطفی کے لئے ناموس رسالت سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں ہے یہ وزیر اطلاعات صاحب فرما رہے ہیں ( بیان خالد کھرل وزیر اطلاعات و نشریات - روز نامہ مساوات فیصل آباد ۔ 8 جولائی 1994ء)۔ گورنر پنجاب کہتے ہیں "گستاخ رسول واجب القتل ہے قانون میں ترمیم نہیں ہو گی“ ( روزنامہ خبریں ۔ 7 / جولائی 1994ء)۔ ” حکومت توہین رسالت کے بل میں رد و بدل نہیں کرے گی