خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 519

خطبات طاہر جلد 13 519 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء ہوا ہے جو انصاف کی تاریخ میں کل عالم میں کہیں بھی رونما نہیں ہوا۔ نئی انصاف کی تاریخیں لکھی گئی ہیں کہ سپریم کورٹ کا گھیراؤ ملاں کر رہے ہیں کہ اگر تم نے انصاف کا فیصلہ کر دیا، یعنی یہ الفاظ اس کے اندر شامل ہیں، کہ اگر تم اس نتیجے پر اس نتیجے پر پہنچے کہ احمدیوں کو قرآن اور شا ریوں کو قرآن اور شریعت حق دیتے ہیں کہ ان کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں جو قوم کر رہی ہے وہ نہ کرے تو پھر ہم تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور تم سے انتقام لیں گے اور اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے یا ہائی کورٹ کے بجز کی طرف سے ظاہر ہے کوئی اعلان ہو سکتا اگر ہو سکتا تھا تو وہ نہیں ہوا مگر یہ ہو سکتا تھا کہ اگر انصاف کا تصور اس قوم کے نزدیک یہ ہے تو یہ ہمارے استعفے ہیں۔ یہ تمہاری ردی کی ٹوکری کے لائق ہیں، جہاں چاہو پھینکو ان کو مگر ہم با عزت نہیں اور با انصاف لوگ ہیں ہم ایسی قوم کی خدمت کرنے سے معذور ہیں جہاں انصاف کا یہ تصور ہو اور قوم کی نمائندگی میں بر سر اقتدار آنے والی پارٹی کا یہ رد عمل ہو کہ عدلیہ گھیراؤ میں آ رہی ہے اور وہ آرام سے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور منتیں کر رہے ہیں اور پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ اعلان تو نہیں کر سکتے ایسی توفیق ان میں بھی کسی کو نہیں ہوئی۔ لیکن ان کے ہوم منسٹر صاحب نے جو وزیر داخلہ ہیں انہوں نے اعلان کیا اور عجیب اعلان ہے کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر سپریم کورٹ سے کوئی انصاف کا فیصلہ ہو گیا یعنی انصاف کے فیصلے سے مراد یہ ہے کہ یہ اس نتیجے پر پہنچے کہ احمدی برحق ہیں، ان کا کوئی جرم نہیں ہے اور ان کے خلاف مقدمات جھوٹے ہیں اگر یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کر دیا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ اب اس میں پیغام کیا مضمر ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے سن رہی ہے وہ اندازہ لگا سکتی ہے اس استعفے سے ملاں کی تسلی کیسے ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ کوئی مخفی ضمانت اس میں پوشیدہ ہو، سوائے اس کے کہ کوئی ان کہی باتیں ہوں اس کے اند ر ورنہ اس کے نتیجے میں ملاں کا گھیراؤ اٹھانا بالکل بے معنی بات ہے۔ تو جس قوم کے انصاف کا یہ عالم ہو اور اس طرح اس کا پول ساری دنیا میں کھل جائے اس سے مجھے یہ توقع کہ عقل کی باتیں سن کر اپنے رویہ کو تبدیل کر لیں گے، یہ محال بات ہے ، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ میں تو حق گوئی سے کام لیتا ہوں انصاف کی توقع ہو یا نہ ہو، فائدہ اٹھانے کی توقع ہو یا نہ ہو آج کل عالم میں اسلام کے تصور انصاف کو پیش کرنے کی ذمہ داری جماعت احمد یہ کے سپرد ہے۔ پس گلف کرائسز ہو یا کوئی اور ایسا موقع ہو، یہ جانتے ہوئے کہ ہماری آواز صدا بصحر اثابت ہو گی جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے مَعْذِرَةً إِلى اللهِ ۔ اللہ کے حضور معذرت پیش کرتے ہوئے ہم اپنی