خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد 13 46 خطبه جمعه فرمودہ 21 جنوری 1994 ء میں احساس آنا منعکس ہوا۔ تو اگر کوئی شخص حواس خمسہ تک پہنچتے پہنچتے سفر کوختم کر دے تو اندھا مر جائے گا ۔ اگر حواس خمسہ تک پہنچنے کے بعد اس کا سفر اس مقام پر سمت میں حرکت کرنے لگے کہ سب 66 66 چیزیں میری بقاء کے وجود کے تمام لوازم اور ان میں جو رکھی ہوئی لذتیں ہیں ، یہ ساری اس آنا “ سے پیدا ہوئی ہیں جو اللہ کی ” آنا ہے اور اس کے سوا ہمارے احساس وجود میں طاقت ہی نہیں تھی نہ عقل تھی دماغ تو اس کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، دماغ تو حواس خمسہ کو محسوس کرنے اور پھر اس کے اندرونی نظام کو مختلف شکلیں دینے کے لئے پیدا کیا گیا اور ان کا باہمی آپس میں ایک رشتہ ہے جو اکٹھے ساتھ ساتھ ترقی کے منازل طے کرتے چلے گئے ہیں۔ تو بقاء کا احساس ہے، جس نے ہمیں بہت سی لذتیں بخشیں اور لذت کے ذرائع بخشے ۔ اب ہم ان کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ مادی لذتیں ہیں۔ مگر اگر آپ اس کی مبداء کی طرف لوٹ جائیں تو ہر مادی لذت کا مبداء، اس کا منبع ایک روحانی لذت ہے جس کو ہم اعضاء میں تقسیم نہیں کر سکتے جس کو کوئی مادی صورت دے نہیں سکتے ۔ اس کا کوئی ایسا وجود نہیں جس کو مادی طور پر کہہ سکیں کہ یہ یہ ہے۔ پس وہ احساس آنا " جس کی میں بات کر رہا ہوں۔ یہ اللہ کے الف یعنی ”انا“ کی ایک کی رہا تفصیل ہے جو زندگی میں ڈھالی گئی۔ جس کو آپ جنسی خواہشات کہتے ہیں اور جنسی لذات۔ اب وں میں دیکھیں یا انسان میں دیکھیں تو باقی پہلوؤں سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ خالصہ مادی اور شہوانی جذبات ہیں روحانیت کا ان سے کیا تعلق ہے۔ حالانکہ جب ان کے سفر پر آپ غور کریں تو پتا لگے گا کہ یہ سفر بھی روحانی سفر تھا۔ جس نے رفتہ رفتہ جسمانی شکلیں ڈھالی ہیں کیونکہ انسان صرف اپنے وجود کو Shase میں یعنی کائنات میں نہیں بڑھانا چاہتا بلکہ وقت میں بھی بڑھانا چاہتا ہے اس لئے لمبی زندگی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ایک مقام پر آکر آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ جو اجل مسمی والی آیت میں نے پڑھ کر سنائی ہے۔ ہر شخص کی ایک اجل مسٹمی ہے۔ ہر وجود کی ایک اجل مسٹمی ہے۔ اس سے آگے ایک ذرہ بھی نہیں بڑھ سکتا۔ تو آگے کیسے بڑھیں پھر ۔ پھر وہ پیدائش کے ذریعے آگے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا پھر ۔ شروع میں زندگی کے آغاز میں پیدائش کے ساتھ وہ لذتیں نہیں تھیں ۔ صرف ایک احساس کی سیری تھی کہ ہم زمانے میں آگے بڑھ گئے ہیں اور یہ سیری کچھ لذت بخشتی تھی۔ جس نے ارب ہا سال تک ترقی کا سفر طے کیا اور