خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد 13 499 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جولائی 1994ء صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی علی با جماعت نماز پڑھا طفی با جماعت نماز پڑھائیں تو شامل ہونے وا۔ ہونے والے آدھی نماز نماز پڑھ کر واپس جائیں تا کہ دوسروں کو موقع ملے کہ وہ آجائیں اور بقیہ آدھی نماز پیچھے پڑھ سکیں اور پھر باقی اپنی بقیہ نماز سب اپنے اپنے وقت پر جاکے پوری کریں۔ اس سے زیادہ نماز با جماعت کے قیام کی اہمیت کا اور کوئی نمونہ پیش کرنا ممکن نہیں اور اس کی روشنی میں نماز با جماعت کی اہمیت کا اندازہ لگانا آسان نہیں بلکہ ایک پہلو سے مشکل ہو جاتا۔ یعنی معاملہ اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ عام انسان کی سوچ کی سطح سے بھی او پر نکل جاتا ہے۔ اتنی زیادہ اہمیت نماز با جماعت کی کہ جہاد ہو رہا ہے، لڑائی جاری ہے اور سپاہی اپنے اپنے لڑنے رنے کے مقام سے واپس آتے ہیں اور آنحضور ﷺ علوس کے پیچھے با جماعت ایک رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کچھ انتظار کرتے ہیں کہ وہ پڑھ لیں تو پھر ہم واپس اپنی جگہوں پر جائیں۔ یہ جہاں معاملے کو آسان بناتا ہے وہاں مشکل بھی بنا دیتا ہے اور اسی حیرت انگیز خصوصی حکم کے متعلق میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ایک مشکل میرے ذہن میں بھی ابھرتی تھی ۔ جس کا یہ حل سمجھ میں آیا کہ یہ حکم استثنائی طور پر حضرت اقدس محمد مصطفی سے صحابہ کے تعلق کے نتیجے میں ہے۔ رض صلى الله حکم۔ آنحضور ﷺ کے عشاق آپ سے ایسی محبت رکھتے تھے کہ جہاں شہادت سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی وہاں یہ خیال کہ ایک نماز آنحضور پڑھا رہے ہوں اور ہم اس میں شمولیت سے محروم رہ جائیں اس قدر سوہان روح تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پیار و محبت سے ان دلوں کی بیقراری کو دیکھا اور اس کا یہ حل تجویز فرمایا۔ ایک بہت ہی عظیم گواہی ہے صحابہ کے عشق پر بھی اور حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ پر ان کے ایمان کی صداقت اور حقانیت پر کہ ایسے وقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گواہی کبھی خدا کی طرف سے کسی کے حق میں نہیں دی گئی کہ عشاق کے دل پر نظر پڑے اور یہ حکم ہو کہ عین جنگ کے دوران لڑتے لڑتے تمہیں اجازت ہے کہ اپنی دلی تمناؤں کو پورا کرو اور اگر شہادت مقدر ہے تو اس سے پہلے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امامت میں ایک رکعت ہی سہی مگر ایک رکعت با جماعت ادا کرو۔ تو یہ تو اس پہلو کا حل ہے جو میں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ جہاں اہمیت کو آسان بناتا ہے وہاں مشکل بھی بنا کے دکھاتا ہے۔ پس میں نے غور کیا تو مجھے اس مشکل کا یہی حل دکھائی دیا مگر نماز با جماعت کی اہمیت اپنی جگہ اس سے سوا بھی باقی رہتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے ہنگامے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ نا ممکن ہو جائے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض دفعہ سارا دن ایسا شدید ہنگامہ رہا کہ عليه