خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 488
خطبات طاہر جلد 13 488 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء ہے کہ کسی اور نے پیغام دے دیا ہے تو بعض لوگ دوڑتے ہیں اور کسی اور ذریعے سے وہ پیغام بھیج دیتے ہیں تا کہ وہ اچھا رشتہ اس کو نہ ملے اور ان کو مل جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے مومن کو جو اخلاق سکھائے ہیں یا اپنے غلاموں کو جو اخلاق سکھائے ہیں ان میں یہ بات بھی داخل فرمائی ہے کہ اس کے پیچھے بھی دراصل خفیہ حسد ہے، اس کے پیچھے بھی دراصل مخفی بدی ہے ورنہ اگر تمہیں اپنے بھائی سے پیار اور محبت ہو تو وہ اچھی چیز جس کو تم اچھا سمجھتے ہو اس کو وہ ہاتھ آ جائے تو تمہیں کیا تکلیف ہے اور پہلے پھر ، اس کو خیال آیا ہے تمہیں تو نہیں پہلے خیال آیا۔ اس لئے اب صبر کرو اگر تم نے دیر کی ہے رشتہ کا پیغام دینے میں ، تو تم ذمہ دار ہوا اپنے بھائی کے رشتے میں دخل اندازی نہ کرو۔ اگر یہ طریق چلے تو ہر وہ بچی جس کا رشتہ گھر میں آتا ہے تو اس کے ماں باپ یکسوئی سے اس شخص کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کر سکتے ہیں۔ اگر یہ انتظار کریں کہ اور رشتے آئیں پھر ہم موازنہ کریں پھر اور رشتے آئیں پھر ہم مواز نہ کریں تو یہ تو نیلامی لگ جائے گی ۔ حقیقت میں اس سے معاشرہ سنورتا نہیں بلکہ بگڑ جاتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ عادت ہو کہ انتظار کرتے رہیں کہ یہ رشتہ بھی ہاتھ میں رہے پھر اور آ جائے ۔ وہ بھی اس حدیث کے مضمون کی مخالفت کرنے والے ہیں۔ جو پیغام پر پیغام دیتا ہے وہ بھی مخالفت کرتا ہے یہاں تو لڑکی اور جاندار کا معاملہ ہے آنحضور یہ تو اس بات کو بھی پسند نہیں فرماتے تھے کہ باہر سے رعلی اگر قافلے آتے ہیں تو ایک شخص جب سودا کر رہا ہے تو دوسرا جا کر اس سودے میں دخل اندازی کرے۔ فرمایا ٹھہرا کرو، انتظار کرو ۔ جب پہلا سودا اگر اس کے حق میں ہو جائے تو بسم اللہ ٹھیک ہے اگر نہ ہو پھر تمہارا حق ہے کہ اپنی بات کرو ۔ ( بخاری کتاب الشروط: 2525) تو یہ وہ اخلاق حسنہ کے ایسے پہلو ہیں جن کو ہم منفی پہلو شمار کر سکتے ہیں یعنی یہ منفی پہلوا اگر موجود رہیں گے تو اخلاق حسنہ کے مثبت رنگ آپ پر نہیں چڑھ سکتے ۔ بعض داغ ایسے ہوتے ہیں ان پر بعض رنگ چڑھ ہی نہیں سکتے ۔ آنحضور ﷺ نے ان داغوں کی نشاندھی فرمائی ہے۔ صلى الله لوسة صلى الله پس اگر آپ حقیقت میں ایک دوسرے کے ساتھ لہی محبت کے رشتے باندھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے دنیاوی، عام روز مرہ کے تعلقات کو کم سے کم انسانیت کے معیار تک تو پہنچائیں۔ اگر آپ پہنچائیں اور اس دوران اپنے کپڑے سے وہ داغ دور کرتے رہیں جو اچھے رنگ کپڑے پر نہیں چڑھنے دیا کرتے بلکہ ہر رنگ میں اپنا چہرہ دکھاتے ہیں۔ جب تک آپ ان کو صاف نہیں کر لیں گے