خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 474

خطبات طاہر جلد 13 474 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 1994ء آسان طریق ہے جس پر چل کر ایک عظیم انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ۔ مگر صلى الله علی سے صحابہ نے جو باتیں سیکھیں یا باتیں پوچھیں ، چھوٹی چھوٹی سادہ سادہ آسان باتیں ہیں ۔ پوچھیں چھوٹی چھوی سادہ سادہ آسان باتیں ہو ان سے اس لحاظ سے سرسری طور پر گزر نہ جایا کریں کہ یہ تو عام سی بات ہے یہ تو ہمیں بھی پتا ہے۔ یا یہ تو حقیقت یہ ہے کہ بظاہر آپ کو پتا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ کا بیان اس سے گہرا ہے جتنا آپ ہیں۔ ٹھہر ٹھہر کر پیار اور محبت سے ان کو دیکھتے ہوئے ، ان سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ، ان مضامین صلى الله صلى الله صلى الله سمجھتے پر سے گزرا کریں تو پھر آپ کو حقیقت میں اپنی اعلیٰ اخلاقی تربیت کی توفیق عطا ہو گی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرمائیں گے جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے عملی لحاظ سے نہیں ملا حضور ﷺ نے فرمایا۔ آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اس کو محبت ہوتی ہے ( صحیح بخاری کتاب الادب حدیث : 5704) ۔ اب یہ بات تو سن لی کہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا کیا مطلب بنا؟ بعض لکھنے والے یہ لکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جس سے محبت ہے قیامت کے دن اس کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا لیکن یہ مضمون جو ہے وہ اس سے بہت زیادہ گہرا ہے اور بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ایک حوالہ قرآن میں ہے، ایک حوالہ تاریخ اسلام میں ہے، ایک حوالہ آنحضرت ﷺ کے قول اور فعل کے یکساں ہونے صلى الله میں ہے۔ ان تینوں پہلوؤں سے میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ اس حدیث سے آپ کو کیا پیغام ملنا چاہئے۔ سب سے پہلے تو قرآن کریم میں اس کا حوالہ یہ ہے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعہ :(4) کہ وہ آخرین بھی ہیں جو ابھی صحابہ سے نہیں مل سکے لیکن ہیں انہیں میں سے وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اور اللہ اس بات پر قادر ہے اور اس بات کی طاقت رکھتا ہے اور حکمت رکھتا ہے کہ جب چاہے ایسا کر دکھائے ۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی ۔ مطالعہ میں بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض دفعہ ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جاتا ہے جس کا کوئی نام نہیں بتایا جاتا اور یوں یوں معلوم ہوتا ہے وہ شخص اجنبی تھا جو اس محفل میں اچانک کہیں سے آیا ہے۔ بعض دفعہ جب اس شخص کے متعلق تحقیقات کی جاتی ہے اور حدیثیں بتاتی ہیں کہ پھر کیا نتیجہ نکلا تو معلوم ہوتا ہے وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو انسانی شکل میں متمثل ہو کر آنحضور سے سوال کیا کرتے تھے تا کہ اس جواب سے جو آپ دیں، صحابہ کی تربیت ہو سکے، پس اس حدیث کا بھی ویسا ہی رنگ ہے۔ حضرت