خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 472

خطبات طاہر جلد 13 472 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 1994ء توفیق ملے گی پھر اس راہ پر آگے قد بڑھاؤں گا۔ یہ وہ دور ہے جس میں ہم داخل ہور ہے ہیں اس دور کے تقاضے یہ ہیں کہ ہم اپنی تمام اخلاقی خرابیوں کو دور کر کے اپنے اخلاق کو زینت دیں اپنے سینوں کو سجائیں کیونکہ یہ روحانی مہمان ہمارے سینوں میں بٹھائے جانے کے لائق ہیں ہم نے ان کو اپنے سینے سے لگانا ہے۔ اپنے کردار کے خانوں میں اتارنا ہے اور وہیں ان کی تربیت کرنی ہے اگر ہمارے اخلاق بد ہوئے اگر ہم ایک دوسرے سے دور ہٹنے شروع ہو گئے ہوں ۔ جیسا کہ بعض دفعہ ہوا ہے۔ اگر ہم آپس میں ایک دوسرے کی محبت میں مضبوط رشتوں کے ساتھ نہیں باندھے گئے تو آنے والوں کو ہم کیسے مضبوط رشتوں میں باندھیں گے اور مضبوط رشتے کیا ہیں؟ یہ کوئی فرضی چیز نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے رشتے ہیں۔ یہ بات ہے جو میں آنحضور ﷺ کے حوالے سے جماعت کو بار بار سمجھا رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ابھی اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی فرضی مضامین کی تقریر میں نہیں ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے اس حقیقت کی دنیا میں اتر کے دیکھو، محبت کے رشتے اخلاق سے باندھے جاتے ہیں اگر اخلاق نہ ہوں تو ساری باتیں فرضی ہیں ۔ وہ لوگ جن کے اخلاق گھر میں سنورے ہوئے نہیں وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے وہ لوگ جو اپنے بچوں سے حسنِ سلوک سے پیش نہیں آتے وہ بیویاں جو اپنے خاوندوں سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتیں وہ لوگ جو اپنے ہمسایوں سے اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش نہیں کرتے ، وہ ساسیں جو اپنی بہوؤں کو اپنی بیٹیاں نہیں سمجھتیں وہ بہوئیں جو اپنی ساسوں کو اپنی ماں نہیں سمجھتیں وہ نندیں جو اور وہ بھائی اور وہ بھابیاں وغیرہ وغیرہ یہ سارے اپنے عملی امتحان کے میدان ہیں جو ہمارے سامنے روز کھلتے ہیں روز ہم ان میدانوں میں اترتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کہاں کہاں ناکام رہے۔ پس دنیا کی زندگی کو عام روز مرہ کے در پیش آنے والے مسائل کی صورت میں دیکھیں تو یہ فلسفے کی اونچی اڑان کی باتیں نہیں رہتی۔ یہ صلى الله روزمرہ رونما ہونے والے گھر کے اور گلیوں کے عام واقعات بن جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اسی صلى الله عليسة حوالے سے ہماری تر ہماری تربیتیں فرمائی ہیں ۔ آنحضور ﷺ نے عام انسان کی ایچ سے اس کی پہنچ سے بالا مضامین بیان نہیں فرمائے ۔ باوجود اس کے وہ مضامین جو بیان فرمائے وہ دنیا کے بڑے بڑے صلى الله عروسه دانشوروں کی سوچ کی ایچ سے، ان کی پہنچ سے بالا تھے آج بھی بالا ہیں ۔ وہ مضامین جو آنحضور نے سادہ اور عام لفظوں میں اپنے کردار کے حوالے سے ہمیں سمجھا دیئے، آج دنیا کے بڑے بڑے