خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد 13 442 خطبه جمعه فرمودہ 10 جون 1994ء چیز ہے۔ اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیں ورنہ آپ کے دل میلے اور کڑوے ہو جائیں گے اور میلے اور کڑوے دلوں میں اللہ کی محبت بھی نہیں رہتی ۔ وہ بھی وہاں سے ڈیرے اٹھا لیتی ہے۔ پس لہی نفرت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص آپ کو پسند نہیں آتا آپ کو تکلف ہوتی ہے ایسے شخص سے۔ لیکن اس کو آپ مارتے نہیں ہیں ، اس کو زہر نہیں دیتے ، اس کے اموال نہیں لوٹتے ، اس کے بچوں کا برا نہیں چاہتے۔ اللہ کی خاطر رحم جو ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ خود اللہ کا حم پر چیز پر غالب ہے اسی لئے آنحضرت کو رحمة للعالمین فرمایا گیا ۔ اب وہ رحمتہ للعالمین خدا کی رحمت ہی کا ایک حصہ ہے جو صلى الله حضور کو عطا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری رحمت ہر دوسری چیز پر غالب ہے میری تمام صفات پر میری رحمت غالب ہے۔ پس نفرت پر بھی غالب آ جاتی ہے۔ پس دنیا سے اللہ کی خاطر محبت کریں ، اللہ کی خاطر بغض کریں، مگر بغض وہ نہیں جو دنیا والے کرتے ہیں کہ ان کی برائیاں سوچیں ، ان کا برا چاہیں، اللہ کی خاطر نفرت ایک عجیب نفرت ہے۔ اس کے باوجود آپ برا نہیں چاہتے۔ کب آنحضور ﷺ نے دنیا کا برا چاہا تھا۔ آپ تو ان کو بھی دعا ئیں دیتے تھے جو آپ کو مارتے تھے اور تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تو صاف پتا چلا کہ نفرت کا مضمون کچھ اور معنے رکھتا ہے اس کو دنیا کے عام رائج معنوں میں لینا بڑی بھاری جہالت ہوگی ۔ ورنہ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ رسول اللہ ﷺ خود تو دوسروں کو نصیحت فرماتے تھے کہ خدا کی خاطر بغض بھی کرو اور بغض نہیں لوسم صلى الله کرتے تھے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جب بغض کا کہتے تھے تو خود بھی بغض رکھتے تھے۔ مگر جو جوصہ صاحب صلى الله عليه اکرام لوگ ہیں ان کی نفرتیں بھی عزت والی ہوا کرتی ہیں وہ کمینوں والی نفرتیں نہیں کیا کرتے اور سب ہیں ان والی ہوا وہ کیا اور سے بڑے صاحب اکرام حضرت اقدس محمد مصطفی تے ہیں تو آپ سے لابی بغض کے رنگ سیکھیں ۔ کس طرح آپ نے بغض کیا اور کس طرح اس بغض کے باوجود آپ نے رحمتیں برسائیں اور نیک دعائیں دیں کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔ ہر ایک کے لئے پاکیزہ تعلیم دی ، رحمت اور عفو کی تعلیم دی، اور جنگ میں جب صحابہ کو بھیجا کرتے تھے تو جو صیحتیں فرماتے تھے ان نصیحتوں سے ظاہر ہے کہ مخالف خدا کی خاطر دشمنی کرتے ہوئے دندناتے ہوئے چلے آرہے ہیں، حملہ آور ہو رہے ہیں اور رسول اللہ لا اللہ فرمارہے ہیں بوڑھوں کو کچھ نہیں کہنا ، فلاں کو کچھ نہیں کہنا ، جو قیدی ہو جائے اس سے حسنِ سلوک کرنا ہے اس کو برا نہیں کہنا۔ یہ بغض ہے ہاں یہی بغض ہے مگر صاحب اکرام لوگوں کا بغض ہے۔ وہ جن کو