خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 425

خطبات طاہر جلد 13 425 خطبه جمعه فرموده 3 جون 1994ء سے سنیں، پڑھیں ، اپنے دل میں جگہ دیں تو پھر پتا چلے گا کہ آپ کی کوئی نیکی بھی ضائع نہیں جاتی ۔ کوئی خلق ایسا نہیں ہے جو بے پھل کے رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں آپ ہی کے اموال اور جان اور آپ کی خوشیوں میں برکت نہیں دیتا بلکہ آپ کا فیض اردگرد بھی پھیلاتا ہے اور وہ لوگ جو مالی کمزوریوں میں مبتلاء ہیں ۔ بد دیانتی سے ایک دوسرے کا مال کھاتے ہیں یا نیک نیت سے اشتراک کرتے ہیں اور جب بُرا وقت آئے تو پھر بہانے بنا بنا کر اپنا نقصان کم کرنے اور بھائی کا نقصان بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں یا دھو کے دے کر اور لالچ دے کر پیسے وصول کرتے ہیں اور پھر ان کے کام نہیں کرتے ان کو بے یارو مددگار چھوڑ جاتے ہیں ان کا جماعت مومنین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو وہم ہے کہ وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں کیونکہ وہ اپنا تعلق آنحضور سے کاٹ لیتے ہیں اور پھر آپس میں بھائیوں سے بھی ان کا کوئی تعلق قائم نہیں رہتا وہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور دور ہٹتے چلے جاتے ہیں اور دور ہٹا دئے جاتے ہیں خدا کی طرف سے، یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ مثال صادق آتی ہے فرمایا اے میرے درخت وجود کی سرسبز شا خواتم میں بعض ( فرماتے ہیں) ایسے بھی ہیں میں جانتا ہوں جو خشک ٹہنیوں کی طرح ہیں بظاہر میرے وجود سے لگے ہوئے ہیں لیکن میرے وجود سے ان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ جو تعلق رکھتا ہے وہ لازما سرسبز و شاداب ہوگا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے سچا عشق ہو اور آپ خشک ٹہنی بن جائیں۔ اصلى الله صلى الله پس اس دور میں جب خدا تعالیٰ نے آنحضور کے اخلاق کو از سرنو دنیا میں قائم کرنے کا صلى الله فیصلہ فرمایا تو آپ ہی کے خلق پر امام مہدی کو پیدا کیا اور آپ نے وہی محاورے استعمال فرمائے جو آنحضور ﷺ نے فرمائے تھے اور انہی کے حوالے سے ساری باتیں پھر کہیں ۔ پس آپ کہتے ہیں تم خشک ٹہنیوں کی طرح میرے ساتھ زیادہ دیر نہیں لگے رہو گے کیونکہ جس طرح ایک باغبان اپنے زندہ پودوں کی حفاظت کے لئے خشک ٹہنیوں کو ان سے جدا کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ خشک ٹہنیاں دوسری زندہ ٹہنیوں کا رس بھی چوسنے لگ جاتی ہیں مگر بے کار ۔ رس تو چوستی ہیں مگر کسی کام نہیں آتا اور اپنے ساتھ کی شاخوں کو بھی سکھانے لگ جاتی ہیں۔ فرمایا میرا ایک باغبان ہے، میرا ایک خدا ہے جو مجھ پر اور میرے تعلقات پر نظر رکھ رہا ہے وہ پسند نہیں فرمائے گا کہ میری ذات کے ساتھ خشک ٹہنیاں پیوستہ رہیں اور وہ ضرور کاٹی جائیں گی اور جب وہ کائی جاتی ہیں تو پھر وہ جلانے کے کام آتی ہیں پھر تم جہنم کا