خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد 13 36 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994ء کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ (غزالی : 151) اس کی جو کچھ برائیاں بیان کرو مگر ایک بات سچی ہے کہ محمد اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔ عاشق کے سواکسی میں یہ طاقت نہیں کہ یہ تکلیفیں برداشت کر سکے۔ عاشق کے سوا کسی کو یہ توفیق نصیب ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ خدا کی راہ میں وہ دکھ برداشت کرے جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ساری زندگی اللہ کی راہ میں برداشت کئے ہیں۔ پس یہ آپ کی کیفیت تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں گھر سے نکلتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے نکلتے ہیں ۔ بسم الله توكلت على الله ولا حول ولا قوة الا بالله ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي اعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَو أُضَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَو يُجْهَل عَلَى۔ (ترندی کتاب الادب ) کہ بسم اللہ اللہ کے نام کے ساتھ توکلت علی اللہ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں یعنی گھر سے باہر انسان جب نکلتا ہے۔ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ امن کی جگہ تو انسان اپنے گھر کو پاتا ہے تو گھر سے باہر نکلنا گو یا کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینا ہے اس لئے پہلا تصور جو ذہن میں آتا ہے وہ تو کل کا ہے۔ کسی سہارے سے میں نکل رہا ہوں ۔ غیروں سے میرے رابطے ہوں گے۔ گھر کا امن میرے ساتھ ساتھ تو نہیں چل سکتا تو حضرت محمد مصطفی اللہ کو سب سے پہلے اللہ کا خیال آتا تھا کہ اللہ کے تو کل پر جا رہا ہوں وہ تو ہر جگہ میرے ساتھ ہے گھر تو ساتھ نہیں چل سکتا مگر اللہ تو ہمیشہ ساتھ رہنے والا ہے۔ بسم الله توكلت على الله ولا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ ۔ کوئی ” حول “ نہیں اور کوئی قوة “ نہیں الا بالله ” حول “ کہتے ہیں خطرات سے بچانے کی قوت کو یعنی اللہ کے حوالے سے جب حول کہا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ ہر قسم کے خطرے سے بچانے کی قوت اللہ کے پاس ہے۔ ولا قوة۔ قوة “ثبت معنوں میں کہ ہر چیز عطا کرنے کی طاقت بھی اللہ کو نصیب ہے۔ پس کسی شر سے ہم بچ نہیں سکتے مگر اللہ کی طاقت سے کسی خیر کو ہم پانہیں سکتے مگر اللہ کی طاقت سے ۔ اللهم أنى أعوذ بكَ أنْ أضِل یہ کہنے کے بعد جب ایک ہی پناہ گاہ ہے ہر چیز سے وہی پناہ کی جگہ ہے تو عرض کرتے ہیں اے میرے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے اَنْ اَضِلَّ أَوْ أَضَلَّ کہ