خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد 13 399 خطبه جمعه فرمودہ 27 مئی 1994ء کی وجہ سے آپ کیوں خودکشی کرتی ہیں ، اپنا نقصان کیوں اٹھاتی ہیں ۔ اس نے بڑا غلط کام کیا ہے یہ اپنا محمد اللہ اور ہے لیکن یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اپنا تعلق محمد رسول اللہ اور اسلام سے کاٹ لیں ۔ چنانچہ اللہ کے فضل کے ساتھ اس نصیحت نے اثر دکھایا اور ایک خاتون کا پتا چلا ان کو میں نے بہت لجاجت کے ساتھ بلایا کہ ہمارے گھر تشریف لائیں ، ہمارے ساتھ کھانا کھائیں اور لجنہ کو پیغام دیا کہ یہ جب ملا کریں تو ان سے عزت کے ساتھ پیش آیا کریں۔ دو تین چھوٹی چھوٹی باتوں سے ان کی کایا پلٹ گئی، چندوں میں غیر معمولی طور پر نمایاں ہو گئیں ۔ حالانکہ خطرہ یہ تھا ، اطلاع یہ تھی کہ ایک موقع پر رہی تھیں کہ دوبارہ عیسائیت میں مدغم ہو جائیں اور اسلام کو ترک ہی کر دیں کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ اگر کسی مذہب میں عام روز مرہ کے اخلاق بھی درست نہیں ہیں تو پھر اس نے ہماری راہنمائی کیا کرنی ہے؟ تو آنحضرت ﷺ کی یہ چھوٹی چھوٹی نصیحتیں ہمارے عمل کرنے کے لحاظ سے چھوٹی ہیں، اپنے مرتبے اور مقام اور رفعتوں کے لحاظ سے چھوٹی نہیں ۔ ان کی مثال ان دو کلموں کی سی ہے جن کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔ وہ یہ سوچ رہی صلى الله كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ۔ ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر: 6188) کہ دو کلمے ہیں بالکل چھوٹے چھوٹے زبان پر ہلکے ہیں لیکن وزن میں بہت بھاری ہیں اور اللہ کو بہت ہی پیارے ہیں ۔ تو چھوٹی نصیحت ان معنوں میں کہ اس نصیحت پر عمل کرنا یا ان نصیحتوں پر عمل کرنا اتنا آسان ہے کہ آدمی جب عمل کرتا ہے تو حیرت سے دیکھتا ہے کہ یہ نیکی کیسے ہو گئی یہ تو معمولی سی بات ہے۔ لیکن وزن میں یہ باتیں اتنی گہری ، اتنی وزنی اور اتنی ٹھوس ہیں کہ قوموں کی تقدیر میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ پس اپنے آپ کو ایک با اخلاق جماعت بنائیں اور بااخلاق جماعت بننے کے لئے با اخلاق گھر بنانے ضروری ہیں۔ یہ نا ممکن ہے کہ بازاروں میں تو آپ خلیق ہوں اور گھروں میں بد تمیز اور بداخلاق ہوں اس سے قو میں نہیں بن سکتیں یہ ایک دھوکے کی زندگی ہے۔ بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں مثلاً بعض عورتوں نے مجھے لکھا کہ ہمارے خاوند بڑے ہر دلعزیز ہیں۔ باہر بہت اچھی باتیں کرتے ہیں۔ لوگ ان کے بڑے قائل اور ان کے گرویدہ اور گھر آ کر ایسے بداخلاق ہو جاتے ہیں کہ مجھ سے اور بچوں سے تلخی کے سوا کوئی بات ہی نہیں نکلتی ۔ یہ خلق محمدی نہیں ہے یہ تو خلق منافقت ہے خا خلق محمدی تو