خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 373

خطبات طاہر جلد 13 373 خطبه جمعه فرمودہ 20 مئی 1994ء دعائیں دے اور وہ کہے کہ نہ نہ ایسا نہ کرو، گھر کی بی بی نے مجھے کہا تھا۔ میں اپنی طرف سے تو نہیں کر رہا میرے مالک نے مجھے یہ تعلیم دی ہے اور حکم دیا ہے اور جب کوئی غریب آیا کرے اس کو یہ سب کچھ دیا صلى الله وہ سمون ہے جو عليسة کرو تو اچانک اس کے تعلق کا رخ اس نوکر سے مالک کی طرف پھر جائے گا اور یہی وہ مضمون کارر قرآن کریم کی آیت ہمیں سکھلا رہی ہے اس سے عالمگیریت جو ہے اس کا تعلق خدا تعالیٰ کے رب العالمین ہونے سے بندھ جاتا ہے اور تربیت کے بہت ہی لطیف مضامین ہمارے ہاتھ آتے ہیں ۔ پس آنحضرت ﷺ نے بھی ایسی ہی تعلیم دی اور یہ جو کچھ ہوا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے عرفان قرآن کے نتیجے میں جو پاکیزہ بہت ہی پیاری نصیحتوں کے طور پر ہمیں حدیثیں عطا ہوئی ہیں ان کے ذریعہ یہ انقلاب برپا ہوتا ہے۔ محض قرآن کا مطالعہ ایک انسان کے لئے کافی نہیں جب تک ایک عارف صلى الله باللہ کی نظر سے قرآن کا مطالعہ نہ کرے اور قرآن کا عرفان سب سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی علی کو تھا اس لئے حدیثوں سے بھی سچا فیض ہم تبھی پاسکتے ہیں اگر قرآن کے مضامین سے ان حدیثوں کو جوڑ کر دیکھیں پھر ایک نیا مضمون ابھر آئے گا۔ ایک نیا معانی کا جہان آپ کو دکھائی دینے لگے گا۔ الله عليسة آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک بکری کے پائے کے ذریعے ہی سہی۔ اسے حقیر نہ سمجھے اور بکری کا پایہ ایک حقیر سی چیز ہے۔ پاؤں جو زمین پر لگتے ہیں، گند میں ملوث رہتے ہیں، وہ انسانی جسم کا بظاہر سب سے حقیر حصہ ہیں تو فرمایا بکری کے پائے سے نیچے اور کیا چیز ہوگی جو تم کھا سکتے ہو اور جو کچھ بھی بکری میں سے تم کھاتے ہو وہ پاؤں سے برتر ہے اوپر کی چیزیں ہیں۔ تو پایہ ہی سہی، ایک پایہ ہی بھیج دو۔ پائے سے ذلیل تر تو نہ سمجھو۔ یعنی دوسرے لفظوں میں یہ نصیحت فرما دی، ایک قسم کا انگیخت کیا ہے اس کی غیرت کو ، اس خدمت خلق کے جذبے کو کہ اپنی پڑوسن کو ایک پایہ بھی تم نہیں دے سکتیں۔ مراد یہ نہیں کہ پائے پر ہی اکتفا کرو۔ ولو کا مضمون بتا رہا ہے کہ چلو اور کچھ نہ سہی اتنا تو کرو اگر یہ بھی نہیں کرو گے تو پھر تمہارے اندر کوئی انسانیت باقی نہیں رہے گی۔ پس یہ وہ تعلیم ہے جسے ہمیں عام کرنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے نتیجے میں وہ تعلقات جو گھروں میں درست ہوں گے۔ باپ بیٹی کے ، ماں بیٹے کے، خاوند کے اپنی بیوی سے، بیوی کے خاوند سے، سارے گھر کے رشتے داروں کے، وہ فیض جو آنحضرت ﷺ کی سنت کا گھروں کو پہنچتا ہے وہ وہاں محدود نہیں رہ سکتا ۔ رحمۃ للعالمین ہیں یہ فیض پھر ان گھروں کی چار دیواریوں سے نکل کر اور اچھل کر ساتھ کے گھروں میں داخل ہونا صلى الله