خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد 13 متعلق ابوذر بیان کرتے ہیں : 371 خطبه جمعه فرمودہ 20 مئی 1994ء صلى الله قال قال رسول الله ﷺ يا نساء المسلمات لا تحقرن لجارتها ولو فرسن شاة (بخاری کتاب الهبة حديث: 2378) مراد یہ ہے کہ کوئی عورت اپنی ہمسائی کو حقیر نہ جانے ولو فرسن شاہ خواہ ایک بکری کے پائے کے ذریعے ہی اس کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔ اب یہ بہت ہی پاکیزہ نصیحت ہے اور بہت ہی اعلیٰ فصاحت و بلاغت کا ایک مرقع ہے۔ ہمسائی کو حقیر نہ جانے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ہمسائی کو تحفہ دینا اس کی عزت افزائی ہے۔ اگر تم ہمسائی کو تحفہ نہیں دیتیں تو گویا تمہارے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور عموما انسان میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ اپنے برابر کو تحفے دیتا ہے یا اپنے سے بالا کو تحفے دیتا ہے اور اپنے سے چھوٹوں کو بھول جاتا ہے اور یہ سلسلہ Gross Root سے یعنی گھاس کی جڑوں کی سطح سے شروع ہو کر درختوں کی چوٹیوں تک اسی طرح چلتا ہے اور انسان اپنے تعلقات میں جو تحفے تقسیم کرتا ہے اور تحفے وصول کرتا ہے وہ عموما برابری کے دائرے میں گھومتے ہیں یا بلند تر لوگوں کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس کے خلاف بہت ہی اہم نصیحت فرمائی ۔ فرمایا کہ جب تم خدا کی خاطر کچھ خرچ کیا کرو تو یاد رکھنا کہ یہ تمہارے اندر ہی گھومنے پھرنے والی چیزیں نہ ہوں یہ نیچے بھی اتریں۔ خدا کی خاطر کرتے ہو تو خدا کے سب بندوں کا خیال رکھنا ہوگا ۔ اگر خدا کے سب بندوں کا خیال نہیں رکھو گے تو تمہاری یہ نیکیاں جو بظاہر ہمسایوں سے تعلقات کی نیکیاں ہیں یا دوستوں کو تحائف پیش کرنا ہے یہ تمہارے سامنے ننگی ہو جائیں گی یہ تمہارے نفس کی خاطر ہوں گی ، خدا کی خاطر نہیں ہوں گی۔ جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدهر : 9 تا 10 ) کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر کھلاتے ہیں، ان کے اندر دو صفات نمایاں پائی جاتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ علی حبہ اللہ کی محبت کی وجہ سے کھلاتے ہیں دوسرے یہ کہ علی حبہ جبکہ رزق سے خود محبت ہو اور انسان خود بھوکا ہو اور خود ضرورت مند ہو، اس کے باوجود وہ خرچ کرتے ہیں اور یہ دونوں معنے دراصل آپس میں مل کر ایک ہو جاتے ہیں کیونکہ