خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 28
خطبات طاہر جلد 13 28 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994ء پہلو پر غور کروں کہ آخر ہمارا کنہ ہے کیا ؟ بالآخر کہاں پہنچتے ہیں؟ تو وہیں پہنچا جہاں سے قرآن شریف کی سورۃ البقرہ شروع ہوتی ہے یعنی أَنَا اللَّهُ أَعْلَمُ۔ آنا یعنی میں ۔ جس نے سارے وجودوں کو پیدا کیا ہے اور اگر اللہ اپنی انا سے اپنی مخلوق کو یہ نعمت عطا نہ کرتا کہ وہ اپنے شعور کا احساس کرلے تو اس مخلوق میں بھی آن پیدا نہیں ہو سکتی تھی ۔ خدا کی انا نے ہماری انا میں پیدا کی ہیں لیکن یہ انا میں اس لئے پیدا کیں کہ اللہ کی انا کی طرف بالآخر لوٹ جائیں کیونکہ وہی تمام آنا کا منبع بھی ہے اور مرجع بھی ہے۔ اس سمندر میں ہمارے قطرے کو لوٹنا ہے اس کے بغیر ہماری آنا کی تکمیل ہو ہی نہیں سکتی اور یہ مضمون محبت کا ہے۔ اپنے نفس کی محبت اتنا ترقی کرے کہ اس محبت کے اعلیٰ تقاضے پورے ہونے شروع ہوں تب خدا ملتا ہے اور ہر محبت کے نتیجے میں ایک لذت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی لئے فرماتے ہیں۔ ”ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں ۔ (کشتی نوح ۔ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ : 21) صرف لذات نہیں فرمایا اعلیٰ لذات“ کہ ” ہر لذت کا ایک ارتقاء ہوا کرتا ہے اور اس ارتقاء کا منتہی خدا تعالیٰ کی ذات پر ختم ہوتا ہے اور اسی کی طرف سب نے لوٹنا ہے۔ پس اپنی آنکھیں کھولیں اپنے گردو پیش کو دیکھیں اور معلوم کریں، غور کریں کہ آپ کیوں محبت کرتے ہیں۔ ان محبتوں کے تمام تر محرکات اپنی اعلیٰ صورت میں اللہ کے وجود کے ساتھ آپ متعلق پائیں گے اور پھر آپ کو سمجھ آئے گی ، سلیقہ نصیب ہو گا کہ کس طرف اللہ کی محبت حاصل کی جاتی ہے۔ جب ایک دفعہ یہ محبت نصیب ہو جائے تو پھر آپ کی لذتوں کی کیفیات کے پیمانے بدل جائیں گے اور طرح طرح کی لذتیں آپ کو نصیب ہونی شروع ہوں گی۔ ہر چیز سے ایک مادی لذت بھی ہوگی اور ایک اس کا اعلیٰ اور برتر حصہ جو اس محبت کے ساتھ منسلک ہو گا لیکن اس سے ارفع ہوگا اس سے بلند تو ہوگا۔ پس خدا کے بندے دو لذتوں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور سورہ رحمن میں جن دو جنتوں کا اصلى الله ذکر ہے میں سمجھتا ہوں ان میں سے دو جنتیں اس دنیا کی وہ دو جنتیں بھی ہیں جن میں ہر لذت کے ساتھ ایک اعلیٰ لذت بھی وابستہ ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اس نیت سے دو کہ اللہ کو یہ بات پسند ہے۔ اللہ تم سے حسن سلوک کی توقع رکھتا ہے اور تمہیں