خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد 13 305 خطبه جمعه فرمودہ 22 راپریل 1994ء صلى الله بنو گے ۔ وَبَشِّرُوا وَلَا تُنفِرُوا اب یہ ہے حضرت محمد مصطفی علی کا کلام ، یہ نہیں فرمایا وَ بَشِرُوا عروسه ولا تنذروا کیونکہ ہر رسول بشیر و نذیرا تو ہوتا ہی ہے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ آپ یہ فرماتے کہ تبشیر تو کروانذار نہ کرنا۔ اس لئے ایک اور لفظ استعمال فرمایا ہے "وَبَشِّرُوا وَلَا تُنفِرُوا “ بشارتیں دو، نفرتیں پیدا نہ کرنا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انذار نفرت پیدا کرنے کے لئے نہیں کیا جاتا، انذار برعکس نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اگر انذار حکمت کے ساتھ کیا جائے تو جو شخص وہ انذار کرتا ہے اس کے لئے بھی دل میں محبت پیدا ہوتی ہے مثلاً ایک شخص آپ کو بتاتا ہے کہ آگے ڈاکو ہیں آپ یہ رستہ اختیار نہ کریں، نقصان پنے گا تو یہ اندر ہے اور ایک شخص کہتا ہے خبر دار اس رستے پر نہیں چلنا منع ہے اس رستے پہ جانا۔ یہ بھی ایک انذار ہے مگر یہ دوسرا انذار تنفروا کے تابع ہے یہ سننے والے کے دل میں نفرت پیدا کرتا ہے اور جو پہلا انذار ہے وہ بشارت کے تابع ہے اور نبی بشیر اور نذیر ہوتا ہے۔ بشیر اور منفر نہیں ہوا کرتا وہ نفرتیں پیدا نہیں کیا کرتا تو انذار سے منع نہیں فرمایا لیکن تبشیر کہہ کر دراصل انذار کو بھی تبشیر کے تابع ہی کر دیا ہے۔ خوشخبریاں دو کیونکہ جب تمہارا انذار بھی خوشخبری کا رنگ رکھے گا تو ایک ایسا شخص جس کو یہ پتا لگے گا کہ واقعہ اس راہ میں چور اور اچکے تھے اور آپ نے اس کو بچالیا تو یہ انذار ہے لیکن اس کے نتیجے میں اس کے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گی ، نفرت پیدا نہیں ہوگی اور ایسا ہم روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کسی کو آپ نیک مشورہ دے دیں اور وہ نیک مشورہ کسی چیز سے بچنے کا مشورہ ہوتا ہے اور جب وہ بچ جاتا ہے اور جانتا ہے کہ اس مشورے کی وجہ سے اس کی زندگی بچی یا اس کی ایک قیمتی چیز بیچ گئی تو وہ بعد میں آکر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے تو فرمایا ”بشروا“۔ بشروا “ کا ایک پہلو ہے خوش بھی کرو لوگوں کو ، ان کے چہرے پر کشادگی پیدا ہو جائے ، ان کے اندر بشارت کے نتیجے میں جو جذبات میں ایک خاص پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے ویسی تبدیلیاں ان کے اندر پیدا ہونی شروع ہوں ، وہ دکھائی دینے لگیں ۔ پس آسانی کے ساتھ نصیحت کرو، آسان باتوں کی نصیحت کرو، خوشخبریاں پھیلاؤ، خوشخبریوں کے نتیجے میں لوگوں کو کھینچو اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجے میں نفرتیں بڑھتی ہوں ۔ یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں ۔ یہ دو نصیحتیں جو آپ کو کی گئی ہیں، حیرت انگیز ان میں گہرائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ جماعتیں جو الہی جماعتیں ہوں ان کی ترقی کا راز اس میں مضمر ہے، ان کی پاک تبدیلیاں پیدا کرنے