خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد 13 297 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء 66 صلى الله وو کی عزت محفوظ ہو، اس کا مال محفوظ ہو، اس کی ہر وہ چیز جس کی وہ قدر کرتا ۔ وظ ہو، اس کی ہر وہ چیز جس کی وہ قدر کرتا ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے، دولت ہو یا بچے ہوں یا اور پیارے یا مذہبی لحاظ سے معزز لوگ، کسی پہلو سے بھی اگر اس کے عزیزوں پر کسی کی طرف سے کوئی حملہ نہ ہو بلکہ وہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھوں میں محفوظ سمجھے تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ پھر مسلمان ہے۔ مسلمان وہ ہے جس سے کسی کو کوئی شر نہیں پہنچ سکتا۔ پہنچتا اور بات ہے ” پہنچ سکتا اور بات ہے، یہاں دونوں مضمون داخل ہیں۔ نہ پہنچتا ہے نہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ مسلمان کے مزاج کے خلاف ہے کہ وہ کسی کی عزت پر نا جائز حملہ کرے کسی کے مال کو ہتھیانے کی کوشش کرے ، کسی کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، غرضیکہ ہر شر کے پہلو سے ایک مسلمان سے دوسرا انسان محفوظ ہے۔ اب ایسا شخص اگر کوئی ہو تو وہ اسے غیر مسلم کیسے کہ سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ خدا تو نہیں ہے، اللہ کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے، جہاں تک بندوں کا تعلق ہے ان کو صرف اتنا اختیار ہے کہ کسی انسان کے روزمرہ کے طرز عمل کے اوپر ایک فتوی دیں اور جود دیکھتے ہیں اس کے مطابق فتوی دیں۔ اگر احمدیوں کے متعلق بنی نوع انسان میں یہ شہرہ ہو کہ یہ شریر لوگ نہیں ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ہماری عزت محفوظ، ہماری دولت محفوظ ، ہر وہ چیز جو ہمیں پیاری ہے وہ ان کے نزدیک بھی اس حد تک قابل احترام ہے کہ اس کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچ سکتے تو ایسے شخص کے متعلق کوئی غیر مسلم اسے کیسے کہہ سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کھول کر مضمون بیان کر دیا ہے کہ اس کو تم غیر مسلم کہنے کا حق ہی نہیں رکھتے ۔ پس جہاں تک اللہ کا تعلق ہے بظاہر بات بدلی ہے لیکن بات وہی ہے ہجرت کی تعریف فرمائی ہے۔ فرمایا مہاجر وہ ہے جو ان باتوں کو چھوڑ دے جن کو اللہ نے منع فرمایا اور ان باتوں کی طرف حرکت کرنا شروع کرے، سفر اختیار کرے جو اللہ کو پسند ہیں تو اللہ کے نزدیک تو یہ مسلمان ہیں۔ جہاں تک بندوں کا تعلق ہے وہ بندے دیکھ رہے ہیں اور بات کھلی ہوئی ہے اس میں کسی کے عالم الغیب ہونے کی نہ ضرورت ہے نہ سوال ۔ جو بے شر، بے ضرر آدمی ہے اس کو تم غیر مسلم کہنے کا حق نہیں رکھتے ۔ جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے اللہ جانتا ہے میں نے کیا حکم دیا ہے، مجھے کیا با تیں پسند، کیا ناپسندا گر وہ اپنے کسی بندے کو دیکھے کہ مسلسل اس کا سفر خدا کی ناپسند باتوں کی طرف سے ان باتوں کی طرف ہے جو خدا کو پسند ہیں، تو آسمان سے ہر لمحہ اس کے لئے مسلم ہی کا فتویٰ جاری ہوگا۔