خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد 13 290 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء پر شہرہ اور بہت سی اعلیٰ روایات سے متعلق ملکی حکومت کے علاوہ بھی ہر سطح پر یہ ذکر خیر ملنا ، اس پہلو سے جماعت احمد یہ بہترین کام کر رہی ہے۔ اس حد تک یہ بات وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے رائج ہو چکی ہے کہ یونائیٹڈ نیشنز کی طرف سے کوئی وفد آئے یا غیر ممالک کے Dignitaries آئیں،ان کے پروگراموں میں بھی جماعت احمدیہ کے مرکز میں جا کر ان تک پیغام تہنیت دینا یہ گویا ایک لازمہ سا بن گیا ہے۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز کی طرف سے غانا پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں خصوصیت سے جماعت احمدیہ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ تو اس پہلو سے وہاں جماعت کا بہت بلند وقار ہے اور اس وقار کو قائم رکھنا اور اس نام کی شہرت کے لحاظ سے واقعہ جماعت احمدیہ کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا اور نیک کاموں میں بھی اضافہ کرنا یہ اب ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ بعض دفعہ نیک نامی کا دائرہ زیادہ وسیع ہو جایا کرتا ہے اور حقیقت میں جو تعداد بعض نیک کاموں میں مشغول ہوتی ہے، وہ تعداد تھوڑی ہوتی ہے۔ چند لوگوں کے نیک کام کثرت کی طرف منسوب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جماعت احمد یہ کو اس سے تسلی نہیں ہونی چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ میرے ذہن میں نیک نامی کا تصور یہی رہا ہے کہ اللہ جس پر تحسین کی نظر ڈالے۔ نیک نامی وہی ہے جو آسمان پر ہو۔اس نیک نامی کے نتیجے میں اگر دنیا میں بھی نیک نامی نصیب ہو جائے تو یہ وہ نیک نامی ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور حدیث پر یہ پیغام مبنی ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم کے حق میں کوئی بات لکھ دیتا ہے یا کسی فرد کو پسند فرمانے لگتا ہے تو ملاء اعلیٰ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ زمین پر اتریں اور اس شخص کی یا اس قوم کی نیک نامیاں دنیا میں پھیلائیں۔ یہ وہ نیک نامی ہے جو حقیقت میں کوئی معنی رکھتی ہے، ورنہ محض رعب کسی قوم کا پیدا ہو جائے یا اس کے متعلق اچھی باتیں مشہور ہو جائیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جماعت احمد یہ کے نزدیک وہی حقیقت ہے جو میں نے بیان کی ہے، اللہ کے ہاں نیک لکھے جائیں، یہ سب سے بڑی کامیابی ہے اور جب یہ ہو اور پھر زمین پر باتیں ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں۔ پس جماعت احمد یہ غانا کو دو پہلوؤں سے اس نیک نامی سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اول تو اپنی تعداد کو بڑھائیں تا کہ ملک کا ہر حصہ جماعت احمد یہ کے فیض سے فیضیاب ہو اور دوسرے یہ کہ زیادہ سے زیادہ احباب جماعت کو نیک کاموں میں ملوث کریں اور نیک کاموں میں صرف چند نیک