خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد 13 247 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء اس سے تمہیں کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ شان کا رسول جو ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اس کا دامن پکڑو۔ صحابہ کا یہ حال تھا کہ ان کی زندگی کا سب سے اعلیٰ مقصد وہ نماز تھی جو محمد رسول اللہ نے آپ کو سکھائی تھی۔ اول و آخر وہ ذکر الہی میں گم رہتے تھے اور ذکر الہی کی جان نماز میں سمجھتے تھے۔ در حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شہادت پائی تو آخری صبح جو آپ نے اس دنیا میں گزاری اس کے متعلق مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ اس رات جس میں حضرت عمر زخمی ہوئے آپ کے پاس گئے آپ کو صبح کی نماز کے لئے جگایا گیا تو آپ نے فرمایا ” نعم “۔ ہاں جس شخص نے نماز اسلام میں کچھ حصہ نہیں۔ حضرت عمرؓ نے نماز پڑھی اس حال میں کہ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا لیکن نماز پڑھتے رہے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی نماز ، وہ عبادت جو خدا کے سب سے پاک رسول نے بنی نوع انسان کو عطا کی تھی ، یعنی عطا تو اللہ نے کی تھی مگر آپ نے اس کو اپنی ذات میں جاری فرما کر اس کے سارے اسلوب ہمیں سمجھائے اور ان معنوں میں میں کہتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی عطا کو ایک زندہ مثال بن کر ہمارے لئے جاری فرمایا ، اس کو چھوڑ نا ہلاکت صلى الله ہے اس کے سوا اس کا کوئی اور نام نہیں ۔ ۔ صلى الله ایک لمحہ کے لئے بھی آنحضرت یہ خود نماز سے غافل نہیں ہوئے۔ کسی حالت نے خواہ وہ صلى جنگ کی حالت تھی یا امن اور آرام کی حالت تھی ، صحت کی حالت تھی یا بیماری کی حالت تھی ، حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو نماز سے غافل نہیں کیا۔ آپ کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ نماز کا نماز کا مقصد تو ذکر الہی ہی ہے نا ! ذکر تو میں ہر وقت کرتا ہوں مجھے نماز کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی آخری نماز کی کیفیت یہ تھی کہ بخار کی شدت سے آپ بے ہوش ہو ہو جاتے تھے اور جب آنکھ کھلتی تھی تو کہتے تھے دیکھو نماز کا وقت تو نہیں چلا گیا۔ یہ کہہ کر پانی منگواتے تھے۔ وضو کر کے پھر نماز شروع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پھر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی۔ پھر آنکھ کھلتی تو پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ دیکھو نماز کا وقت تو نہیں چلا گیا یہاں تک کہ آپ نے ٹب منگوایا اور کہا مجھ پر بہا دو تا کہ کچھ عرصے کے لئے بخار میرا پیچھا چھوڑے اور میں اپنے اللہ کی اس طرح عبادت کروں جس طرح اس نے مجھے سکھائی ۔ ( بخاری کتاب المغازی حدیث: 4088) یہ ہے 'ذکر ا رسولا “ یہ وہ ذکر الہی ہے جو آپ نے دنیا میں ہمیشہ کے لئے جاری کیا ہے۔ پس ان شیطانوں کے وسوسوں میں کبھی نہ پڑنا۔ نہ آج پڑنا کے میں نہ نہ