خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 10

خطبات طاہر جلد 13 10 خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1994ء جس طرح ہر مرحلے، ہر موقع پر ہر وقت کی اور ماحول کی اور مزاج کی تبدیلی کے وقت حضرت اقدس صلى الله محمد مصطفی ﷺ نے اپنے رب کو یاد کیا ہے وہ ایک ایک پہلو نہ صرف اللہ کی عظمت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ آپ کی صداقت کے اوپر دلالت کرتا ہے۔ ایک سچے ، گہرائی کے ساتھ پورے صدق کے ساتھ اوپر عاشق ہونے والے شخص کے سوا کوئی ایسے مواقع پر اپنے رب کو اس طرح یاد نہیں کر سکتا۔ یہ انسانی فطرت کے خلاف بات ہے۔ صلى الله حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے میں نے ذکر کیا تھا کہ آنحضرت سجدہ کیسے کیا کرتے تھے، سجدے میں کیا کیفیت ہوا کرتی تھی اسی مضمون کی ایک اور حدیث ہے۔ صلى الله حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قرآن کریم کے سجدہ میں یہ دعا کرتے تھے میرا چہرہ صلى الله عليه اس ذات کے لئے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ اس کی شنوائی کو بنایا اور اس کی بینائی کو بنایا۔“ اب چہرے کے ساتھ دو بہت ہی اہم حواس خمسہ کے ذرائع وابستہ کر دیئے گئے ہیں اور چہرے میں اندر کا منہ شامل نہیں ہے۔ اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے مزے کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ عربی زبان میں جو چہرہ ہے وہ باہر دکھائی دینے والا حصہ ہے۔ اس لئے ان دو کے تعلق میں آپ نے ذکر فرمایا کہ میرا چہرہ اس ذات کے لئے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، اس کی شنوائی کو بنایا اور اس کی بینائی کو بنایا اور پھر فرمایا وبحــولــه وقوته اپنے حول کے ساتھ اور اپنی قوت کے ساتھ ۔ (ترمذی کتاب الجمعہ حدیث نمبر : 529)۔ اب ایک عام پڑھنے والا سو چتا نہیں ہے کہ حول “ کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے۔ ”قوة“ کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے لیکن ذرا توقف کریں اور غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ بینائی اور شنوائی یہ دو چیزیں ہیں جن کے ذریعے انسان تمام خوف کی جگہوں سے بچ سکتا ہے۔ ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا سب سے اہم ذریعہ جو جاندار کو عطا کیا گیا ہے وہ شنوائی اور بینائی ہے۔ اگر شنوائی اور بینائی نہ رہیں تو کسی خوف سے کوئی آزادی نہیں تو فرمایا : وبحوله حول“ اس طاقت کو کہتے ہیں جو خطرات سے بچانے والی ہے تو دیکھیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نگاہ کتنی گہرائی پر عليه اتری ہے۔ فرمایا میرا وہ چہرہ گو تیرے حضور سجدہ ریز ہے جس کو تو نے شنوائی اور بینائی عطا کی اپنے حول “ کے ساتھ یعنی اپنی ان قوتوں کے ساتھ جو ہر خطرے سے بچانے والی ہیں اور پھر فرمایا: وو صلى الله