خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد 13 141 خطبه جمعه فرمودہ 25 فروری 1994ء یہ دونوں باتیں اپنے درجہ کمال کو پہنچی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کا جماعت جتنا بھی شکر ادا کرے اتنا ہی کم ہے مگر ان خوشیوں کے ساتھ کچھ کانٹے بھی تو ہیں وہ کانٹے وہ ہیں جو دشمن کے دل کا عذاب ہے اور ہماری راہ ہیں جو کسی کے دل کا عذاب ہے اور ہماری راہ کے کانٹے بن جاتے ہیں اور یہ پیشگوئی بھی لازما پوری ہونی تھی کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے یہ محمدمصطفی ان غلاموں کے حق میں جنہوں نے آخرین میں ظاہر ہونا تھا خصوصیت سے تمثیلی پیش کی گئی تھی کہ ان کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے ایک بیج بویا جائے ، اس میں سے کونپل پھوٹے ، پھر وہ اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہو کر مضبوط ہونے لگے اور بہت خوش نما دکھائی دے ۔ زراع وہ بونے والے ہاتھ اور وہ بونے والے دل جنہوں نے اس کھیتی کو بویا ہو اس سے بہت خوشی محسوس کریں ۔ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ وہ کھیتی اس شان کے ساتھ نشوونما پائے کہ بونے والوں کے دلوں کو خوشیوں سے بھر دے۔ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ مگر یا درکھو کہ ان کے منکر ضرور غیظ وغضب میں مبتلا ہوں گے۔ ایک طرف اس کھیتی کی نشو و نما دلوں کو خوشیوں سے بھر رہی ہوگی اور دوسری طرف ان کے دشمن اسے دیکھ دیکھ کر غیظ و غضب میں مبتلا ہوں گے ۔ پہلے زمینی ذرائع سے کام لے کر زمین میں ہونے والے نشانات کے منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اب آسمان سے نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ بند کر کے دکھاؤ۔ ان کا رستہ روک کر دکھاؤ تم میں طاقت نہیں ہے کہ اس رستے کو روک سکو۔ پھونکوں سے اللہ کے جلائے ہوئے چراغ بھی کہیں بجھائے جاتے ہیں!! تم نے ربوہ والوں کا چراغاں روک دیا مگر ربوہ کی طرف سے جو چراغاں ہم نے کل عالم کو دکھایا ہے اسے کس طرح روک سکو گے؟ یہ وہ چراغ نہیں ہیں جو تمہاری پھونکوں سے بجھ سکیں۔ تمہارے سینے کی آگ بھی ظاہر ہوتی ہے اور دنیا دیکھتی ہے مگر وہ روشنی کے چراغ جو اللہ نے احمدیوں کے سینوں میں روشن کر دیتے ہیں اور تمام دنیا میں اس سے نور ہی نور پھیل رہا ہے ان کی راہ تم نہیں روک سکتے اور ان شمعوں کو تم نہیں بجھا سکتے۔ یہ آسمان سے نازل ہونے والے نور ہیں ان پر بندے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پس اہل ربوہ کو اب خوش ہونا چاہئے کہ پہلے تو ان کی خوشیوں کی آواز دبا دی جاتی تھی اب