خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد 13 132 خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1994ء اور ضرور میرے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا اور سجدے کرتا تھا، ایک دفعہ وہ سجدے میں کچھ بول رہا تھا میں نے کہا کیا ہے۔ کہتا تم سے نہیں بات کر رہا، میں اللہ میاں سے بات کر رہا ہوں۔ اب دیکھیں اس کو اس میں بھی لطف آتا تھا تو کیوں آپ عقل والے ہو کر، بڑے ہو کر ، عبادت اس طرح ادا نہیں کرتے کہ اس اسے سے لا لطف آنا شروع ہو جائے اور یہ لطف بھی اللہ سے مانگنا ہو گا۔ پس اس مہینے عبادت پر قائم ہوں اگر پہلے آپ کو لطف نہیں آتا اور صرف عادت ہے تو دعا مانگیں اور کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عبادت کا لطف عطا کرے۔ پھر اپنے گھر والوں کے لئے یہ کوشش کریں اور ان کے لئے بھی یہ دعا کریں کہ اے اللہ رمضان کے چند دن ہیں گزر جائیں گے بعد میں ہم کہاں ٹکریں مارتے پھریں گے۔ وہ نیکیاں جواب قریب آگئی ہیں، جنت قریب آنے کا یہ بھی تو مطلب ہے کہ نیکیاں آسان ہو گئی ہیں، پہنچ میں آگئی ہیں ہاتھ بڑھاؤ تو نیکی ہاتھ آ سکتی ہے ایسے وقت میں ہمیں نیکیاں عطا کر دے اور ایسی عطا کر کہ پھر آ کر جانے کا نام نہ لیں ، ایک دفعہ آئی تو ہماری ہو کر رہ جائیں۔ اس پہلو سے نمازوں کو قائم کریں اور نمازوں کے لطف اٹھائیں اور اٹھانے کی کوشش کریں اور اپنے ماحول میں نماز کو قائم کریں کیونکہ سب سے زیادہ نحوست کسی قوم پر عبادت سے دوری ہے۔ مذہبی قوم کہلاتی ہو اور عبادت سے عاری ہو جائے تو کچھ بھی اس کا باقی نہیں رہتا اور وہ تو میں جو عبادت پر قائم ہوں اور اس کے مزاج سے عاری ہوں ، اس کے عرفان سے خالی ہوں ، ان کی زندگی بھی ویران رہتی ہے، ان کو کچھ نصیب نہیں ہوتا۔ اس لئے جماعت احمدیہ کو میں جس عبادت کی طرف بلا رہا ہوں وہ وہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت تھی جس سے سینے ہی آباد نہیں ہوتے بلکہ اس کے گرد و پیش روشن ہو جاتے ہیں وہ ایسے لوگ بن جاتے ہیں جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے۔ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ کہ ان کا نوران کے سینوں سے باہر آکر ان کے آگے آگے چلتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ہدایت کا موجب بنتا ہے۔ پس وہ تو سچی اور گہری عبادت سے حاصل ہو سکتا ہے ورنہ تو آنحضرت ﷺ نے اس زمانے ہی کے ذکر میں فرمایا کہ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الهدی ایسی مساجد بھی ہوں گی اس زمانے میں ، جو بھری ہوئی ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی اور ویران ۔ پس اپنی عبادتوں کو خالی اور ویران نہ بننے دیں بلکہ ہدایت سے پُر کریں، پھر ان سے وہ نور