خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 113
خطبات طاہر جلد 13 113 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء کیا إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا پورے ایمان کے ساتھ اور محاسبہ کرتے ہوئے ۔ وَقَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ۔ اس کے گناہ اس سے اس طرح زائل ہو جائیں گے جیسے اس دن گناہ اس کے ساتھ نہیں تھے جب اس کی ماں نے اسے پیدا کیا تھا۔ اب یہ ہی عظیم خوشخبری ہے اس کا بھی اَيَّا مَا مَعْدُودَتِ سے تعلق ہے۔ اَيَّامًا مَّعْدُود ا سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ایک عارف کو یہ خوف بھی تو ہوتا ہے کہ چند دن گزرجائیں گے، میں بہت ہی صلى الله سه پتا نہیں اس اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں کہ نہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے گر سکھا دیا ہے کہ اس طرح اس رمضان سے پیش آؤ کہ تم اس کی برکتوں سے پورا فائدہ اٹھا سکو۔ وہ یہ ہے کہ رمضان کو ایمان کے ساتھ قائم کرو اور احتساب کے ساتھ قائم کرو۔ ہے ایمان کا تعلق یہ ہے کہ ایمان کے جتنے تقاضے ہیں وہ اس رمضان میں تمہیں دکھائی دیں گے اور ایمان کے سارے تقاضے پورے کرو۔ ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ دنیا سے بے پرواہ ، دنیا کی نظر سے غافل ، انسان محض اللہ کی رضا کی خاطر کوئی کام کرتا ہے اور اس کی خاطر پھر اعمال اختیار کرتا دھی رات کو اٹھنا جبکہ سی کوخبر نہ ہوکہ کیا ہو رہا ہے اس وقت محض اللہ کی یاد کی خاطر اٹھ کا گہرا ایمان سے تعلق ہے۔ پس مراد ہے اپنی راتوں کو بھی جگاؤ، پھر خدا کے نام پر بار بار اس مہینے میں نیکی کرنا اور دین کے تمام فرائض کو پورا کرنا، ایمان کی تفاصیل میں تمام عبادات داخل ہیں۔ ایمان باللہ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اللہ کو کہہ دیا کہ اللہ ایک ہے یا اللہ موجود ہے۔ ایمان باللہ کے اندر تمام اہل عرفان، اہل علم جانتے ہیں کہ تمام نیکی کے مضامین جو ایمان لانے کے بعد انسان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ان سب کو قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے پھر ایمانا “ کہ کر ایک بہت وسیع مضمون کو ایک لفظ میں بیان فرما دیا اس کے بعد کسی اور لفظ کی بظاہر ضرورت نہیں رہتی، مگر آنحضرت ﷺ نے ایک صلى الله اور لفظ استعمال فرمایا ہے اور وہ ہے اِحْتِسَابًا “ کہ ہر لمحہ اپنا حساب کرتے رہنا یہ نہ سمجھنا کہ تم نیکیاں کر رہے ہو اگر تم نے نیکی پر نظر نہ رکھی، اپنی نیتوں کو ٹو لتے نہ رہے تو جن کو تم ایمان کے مطابق رمضان قائم کرنا کہتے ہو بسا اوقات وہ ایمان کے مطابق نہیں ہوگا بلکہ بعض اور تقاضوں کے نتیجے میں ہوگا۔ رمضان کے مہینے میں کئی ایک قسم کے رواج چلتے ہیں اور انسان بظاہر یہ سوچتے ہوئے کہ یہ چیز میں منع تو نہیں، جائز ہیں ان میں شدت اختیار کرتا ہے لیکن احتساب کے خلاف ہے۔ مثلاً افطاریاں چلتی رہتی