خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 999
خطبات طاہر جلد 13 999 خطبه جمعه فرموده 30 دسمبر 1994ء عظیم دور کی خوشخبریوں کا پیش خیمہ بنیں گی اور یہ MTA کا جو اجراء ہے، باقاعدہ سات جنوری کو ہوا میں سمجھتا ہوں انہی انعامات میں سے ایک اہم انعام ہے اور اس کا چاند سورج کی گواہی سے تعلق ہے اور بہت گہرا تعلق ہے۔ بعض دفعہ ایک انسان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ایک ایسی بات (جس کی تفصیل ذہن میں حاضر نہیں ہوتی ، نہ انسان اس وقت سوچ سکتا ہے ) مگر منہ سے کلمے ایسے نکل جاتے ہیں جو پورے ہوتے ہیں تو اس وقت کہنے والا بھی حیرت سے دیکھتا ہے کہ یہ کیا بات میرے منہ سے نکلی اور ا اللہ تعالیٰ نے کیسے پوری فرمادی۔ اس کے متعلق کئی ایک دفعہ نہیں بارہا ایسے واقعات ہو چکے ہیں مثلاً ایک متکبر شخص کے متعلق اپنی ایک نظم میں میں نے کہا تھا کہ: ٤ خدا اڑادے گا خاک ان کی (کلام طاہر : ۲۳) بگولے اٹھے ہیں خاک کے ہمیں مٹانے کے لئے اللہ ان کی خاک اڑادے گا، ان کا نشان نہیں ملے گا، اور وہ شخص اسی طرح بگولوں میں اڑنے والی خاک بن گیا اور امریکہ سے مجھے کسی نے لکھا کہ آپ کی تو توجہ نہیں گئی ہوگی مگر میں نے جب اس شعر کو پڑھا اور اس واقعہ کو دیکھا تو بالکل یوں لگتا تھا جیسے خدا تعالیٰ نے آپ کے منہ سے یہ بات کہلوائی ہے عین اس واقعہ پر چسپاں ہونے والی بات ہے تو اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ ربوہ میں جب شروع شروع میں مخالفت کا بہت جوش اٹھا تو اس وقت میں نے مولویوں کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ دیکھو تم بعض رستے بند کر سکتے ہو زمین پر جب خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ آسمان سے تمام دنیا پر بارشیں برسائے گا پھر تمہاری چھتریاں کیسے اس کو روک سکیں گی۔ کیسے تمہاری چھتریاں ان فضلوں کو بندوں پر گرانے کی راہ میں حائل ہو جائیں گی فضل جب آسمان سے گرتے ہیں اور خدا اتارتا ہے اور عالمگیر فضل اتارتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ دنیا میں کسی کو طاقت نہیں کہ ان کو روک سکے، ان کی راہ میں حائل ہو سکے ۔ مگر اس وقت میں پاکستان کا بھی کہہ سکتا تھا بغیر دنیا کے حوالے سے یہ بات کر سکتا تھا وہ وقت ایسا تھا جب خود بخود میری زبان پر یہ الفاظ زور کے ساتھ جاری ہوئے کہ وہ وقت جب ساری دنیا میں خدا فضلوں کی بارشیں برسائے گا تو ان آسمان سے اترے ہوئے فضلوں کی راہ تم کیسے روک سکو گے یہ کوشش بے کار ہے اس کو چھوڑ دو تمہیں چارہ نہیں ہے کہ یہ کام کر سکو ۔ اب :