خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 995
خطبات طاہر جلد ۱۲ 995 خطبه جمعه ۲۴ دسمبر ۱۹۹۳ء کر دیکھیں تو حکمتوں کے عظیم خزانے ہیں ایک ایک حدیث یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ خدا کا سب سے سچا انسان ہے ورنہ ایک بات بنانے والے کا تصور آنحضور ﷺ کی حدیث کے قدموں تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر عرض کرتے ہیں کہ اے خدا میں ایک پناہ تجھ سے چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسی شناء اپنی تو جانتا اور کرتا ہے یہ نہ ہو کہ میں ویسی نہ کر سکوں اور تیری نظر سے گر جاؤں ۔ پس مجھے اپنی ثناء کے وہ گر سکھا کہ جن کے نتیجہ میں تجھے یوں معلوم ہو کہ گویا تو اپنی صفت کر رہا ہے ایسے اعلیٰ راز ہمیں اپنی حمد کے سکھا کہ جس کے نتیجہ میں تیرا دل اس حمد سے اس طرح راضی ہو کہ تو جانتا ہو کہ اس طرح حمد کی جاتی ہے ۔ ( ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوۃ حدیث نمبر : ۱۱۶۹۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آدمی ذات تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے (در مشین صفحہ ۱۴) کہ جو حمد خدا کی گاتے ہیں وہ عام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے۔ وہ تو ایسی حمد ہے کہ انسان ہی اس کے پیچھے نہیں لگتا بلکہ فرشتے بھی اس سے سیکھتے ہیں۔ پس وہ یہی حمد ہے جس کا ذکر انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا میں خود فرمایا اور اس کی طاقت خدا سے مانگی اور ہمیں بھی یہ سکھایا کہ ہم بھی مانگیں کہ ایسی حمد سکھا کہ جو تو اپنی کر سکتا ہے اور اس سے بہتر اور کوئی حمد نہیں اور اگر ہم ایسا کریں تو فرشتے بھی ویسا ہی کریں گے اور یہی وہ مضمون ہے جس میں آدم فرشتوں سے بازی لے گیا کیونکہ آدم کو بھی خدا تعالیٰ نے ہی سکھایا تھا کہ وہ اسماء کیا ہیں؟ اور جب خدا نے سکھائے تو اس وقت تک فرشتے ان سے بے خبر رہے اور آدم نے سکھائے تو فرشتوں نے سیکھے۔ آدم کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا بھی استاد بنا دیا مگر خود سمجھا کر، خود عطا کر کے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو یہ فرماتے ہیں تو اس میں کچھ مبالغہ نہیں ہے۔ وہ خدا کے بندے جو خدا سے حمد سیکھتے ہیں پھر ساری مخلوق ان کی محتاج بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ فرشتے بھی مقبول حمد کے گران سے سیکھا کرتے ہیں۔ ( حضور اقدس نے وقفہ فرمایا کہ وقت آج خطبہ کے لئے ڈیڑھ گھنٹہ کا تھا لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ اتنا وقت نہیں دیا گیا دس منٹ اور ہیں اور اس دس منٹ کے تعلق میں یہ اطلاع بھی میں آپ کی خدمت میں پیش کر دوں که قادیان کے اس جلسہ میں دس ہزار سامعین شامل ہیں جو اس وقت وہاں ہو رہا ہے اور دس ہزار قدوسیوں کی بھی تو پیش گوئی تھی۔ اس لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ دس ہزار قدوسیوں کی برکت ان کو عطا فرمائے اور ان کے جلو میں ان