خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 953
خطبات طاہر جلد ۱۲ 953 خطبه جمعه ۱۰ر دسمبر ۱۹۹۳ء يستغفرني فاغفر له۔ ترندی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۱۲۶۱) رض حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب رات کو سماء الدنیا کی طرف اس وقت اترتا ہے حين يبقى ثلث الليل الاخر کہ رات کا آخری تہائی ابھی باقی ہوتا ہے یعنی وہ وقت جو تہجد کا وقت ہے اس سے تہجد کے وقت کی تعین بھی ہوگئی کہ پوری رات کو اگر تین حصوں میں تقسیم کر دیں۔ تو آخری تیسرا حصہ جو ہے وہی دراصل معروف اور مستحب تہجد کا وقت ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ہمارا رب نازل ہوتا ہے اور یہ کہتا ہے من يدعوني فاستجيب له کون ہے جو مجھے پکارتا ہے تا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں ۔ معین شخص نہیں ہے کہ جس کی پکار کا میں جواب دے رہا ہوں یا دیتا ہوں یعنی اس تلاش میں آواز دیتا ہے۔ کون ہے مجھ سے محبت کرنے والا میں میدان میں اس کو اجر دینے کے لئے آ گیا ہوں۔ پس مجھے بلانے والا ہے کون جس کی آواز کا میں جواب دوں ۔ افسوس ہے کہ نبوت سے زمانہ جتنا دور چلا جاتا ہے۔ اتنا ہی یہ میدان خالی ہوتا چلا جاتا ہے اور حقیقت میں اللہ کی محبت میں اٹھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے۔ پس ایسے وقت میں جہاں نبوت سے دوری یعنی وقت نبوت سے دوری اپنی ذات میں ایک محرومی ہے۔ وہاں ایک پہلو سے وہ غیر معمولی فضل بھی بن جاتی ہے کیونکہ جب ایسے وقت میں خدا کی خاطر اس کی محبت میں اٹھنے والے کم ہو رہے ہوں اگر کوئی اٹھے اور اس کی آواز کا جواب دے تو وہ عام لوگوں کے مقابل پر زیادہ فیض پاتا ہے کیونکہ جنس جتنی کم ہوتی جاتی ہے قیمت بڑھتی جاتی ہے۔ پس یہ مضمون یہاں بھی صادق آتا ہے۔ اللہ تو اتر آیا ہے لیکن مانگنے والے نہیں ہوتے ۔ فرمایا اس وقت خدا فرماتا ہے وہ کون ہیں مجھ سے مانگنے والے، وہ کہاں ہیں ، میں آ گیا ہوں تاکہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کروں ۔ من يسالني فاعطیہ کون ہے جو مجھ سے سوال کرتا ہے تا کہ میں اسے عطا کروں۔ ومن يستغفرني فاغفر له کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کر رہا ہے تا میں اس کی بخشش کو قبول کروں ، اس کی استغفار کو قبول کروں اور اسے بخشش دوں ۔ عن جابر بن عبد الله قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم فقال يا ايها الناس ارتعوا في رياض الجنة قلنا