خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد ۱۲ 91 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء مختلف ملکوں میں ٹیلی ویژن سے باہر بھی جایا کریں گے لیکن سردست خدا نے پیاس بجھانے کا یہ جو انتظام فرمایا ہے اللہ اس میں بہت برکت ڈالے۔ اب میں تحریکات سے متعلق بتاتا ہوں ایک تحریک افریقہ انڈیا فنڈ کی گئی تھی اس میں بعد میں روس کو بھی شامل کر لیا گیا ان تین علاقوں میں افریقہ کے علاقوں میں اور روس سے مراد USSR یعنی سابقہ USSR کی ریاستوں میں اور ہندوستان میں بہت سے اخراجات کی ضرورت تھی کیونکہ ہندوستان سے پارٹیشن کے بعد خلافت کا جو براہ راست تعلق منقطع ہوا اس کے نتیجہ میں بہت نقصان پہنچا ہے۔ جہاں پہلے ہی غائبانہ تعلق ہیں وہاں اور بات ہے جہاں ایک دفعہ تعلق پیدا ہو جائے اور پھر دوری پیدا ہو جائے وہاں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں پاکستان میں بھی یہی حال ہوا کہ بہت خرابیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں جن کو خدا تعالیٰ نے اب اپنے فضل کے ساتھ دور کرنے کے سامان مہیا فرمادیئے ہیں اور جہاں جہاں ٹیلی ویژن کے ذریعہ خطبوں سے رابطے ہوئے ہیں وہاں کی جماعتیں لکھ رہی ہیں کہ حقیقت میں ہمارے پاس کوئی الفاظ نہیں ہیں کہ آپ کو بتلا سکیں کہ ہم نے کیسی نئی زندگی پائی ہے دلوں میں نئے ولولے جنم لینے لگے ہیں اور جماعت اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر بڑی قوت کے ساتھ آگے بڑھنے لگی ہے تو یہ اللہ کے احسانات ہیں جو اس نے ہم پر فرمائے۔ لیکن ہندوستان میں لمبے عمہ سے جو کمزوریاں پیدا ہو گئیں وہاں بہت زیادہ خرچ کی ضرورت تھی جو کیا جا رہا ہے۔ قادیان کو سنوارنے میں اس کے وقار کو از سر نو بحال کرنے میں بہت بڑے اخراجات کی ضرورت تھی جو کچھ ہو چکا ہے اور کچھ آئندہ انشاء اللہ ہوگا۔ اسی طرح باقی جگہ بھی جماعتوں کو تقویت دینے کے لئے ضرورت تھی افریقہ میں بہت بڑے بڑے منصوبے جاری ہیں اور خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ممالک ہیں جو اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جس کے بعد ایک یا دو قدموں میں پھر آگے کلیہ وہ ملک احمدیت کی جھولی میں گرنے والے ہیں تو ایسے عظیم الشان مواقع سے استفادہ کے لئے جتنی دولت کی ضرورت ہے وہ تو ہمارے پاس نہیں لیکن اخلاص سے دیا ہوا چندہ اتنی برکت رکھتا ہے کہ جماعت ان راہوں میں جو کچھ بھی خرچ کرتی ہے وہ سینکڑوں گنا ، ہزاروں گنا اثر دکھاتا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک انعام ہے، یہ بھی ان جزاؤں میں سے ایک جزا ہے جو قرضہ حسنہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ اس کا نام سود نہیں ہے بلکہ قرضہ حسنہ رکھا ہوا ہے۔ سود تو معین رقم