خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 943 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 943

خطبات طاہر جلد ۱۲ 943 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی سوال کے جواب میں کہ بہترین وظیفہ کیا ہے۔ فرمایا۔ نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے استغفار ہے اور درود شریف ، تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس صلى الله صلى الله سے ہر قسم کے ہم و غم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔ آنحضرت کے سے کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنَّ الْقُلُوبُ (یعنی خبردار اللہ ہی کے ذکر سے دل طمانیت پاتے ہیں۔ ) اطمینان و سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو صلى الله گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔ مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان وظائف اور اوراد میں (یعنی ورد کا جمع ہے اور اد ) دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔ بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اپنے اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والے کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ (مولوی صاحب سے مراد حضرت خلیفة امسیح الاول حکیم مولوی نور الدین ہیں۔ جب حضرت مسیح موعود محض مولوی صاحب کہتے ہیں تو سب سے سے نمایاں طور پر آپ کا نام ذہن میں ابھرتا ہے اور وہ ہی مراد ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور