خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 926 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 926

خطبات طاہر جلد ۱۲ 926 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۳ء لیکن اس نیک صحابی کی دلداری کی خاطر اس رنگ میں اظہار فرمایا کہ اس کو پتا بھی نہیں لگا کہ مجھ سے، میرے کسی فعل سے ناپسندیدگی کاا سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ بہت ہی ایک بار یک مضمون ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو کیوں نہ سمجھایا۔ اصل بات یہ ہے کہ عشاق جب اپنے محبوب کے پاس پہنچتے ہیں تو اس قسم کی رسم و رواج کے پابند نہیں رہا کرتے جن کو ہم آداب کی رسم و رواج کہتے ہیں۔ ایک عاشق تھا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ڈوبا ر ہنے والا وجود جو ذکر الہی کے متعلق اور دین سے متعلق معلومات لینے کے لئے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کی اس ادا کو حضور اکرم ا رد نہیں فرمانا چاہتے تھے۔ آئندہ بھی اس سے اسی قسم کی اداؤں کی توقع تھی۔ اسی قسم کے طرز عمل کی توقع تھی لیکن جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو آپ کے سامنے محو گفتگو تھا اس کو صرف اتنا بتا نا کافی تھا۔ کہ تم برا نہ منانا میں ایک قسم کی معذرت تم سے کرتا ہوں۔ پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے آداب سیکھیں تو آپ کو روز مرہ کی زندگی میں تعلقات میں بار یک درباریک راہیں بھی دکھائی دینے لگیں گی اور پتا چلے گا کہ کس موقع پر کیا طرز اختیار کرنی چاہئے۔ پس ایک نصیحت یہ ہے کہ حتی المقدور ایسے موقعوں پر عقل سے کام لیا کریں اور ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہونے دیں جس سے میزبان کے دل کو دکھ پہنچے مثلا جب یہ ایسے آثار ہو تو پہلے ہی پتا لگ جایا کرتا ہے۔ جہاں بے پردگی کے سامان ہوں وہاں عین وقت پہ تو نہیں پتا چلا کرتا۔ اس وقت علیحدگی میں صاحب خانہ کو بتایا جا سکتا ہے کہ ہم پردہ دار لوگ ہیں ، ہم سے یہ نہ کریں۔ یہ ہماری روایات کے خلاف ہے۔ ہم پسند نہیں کرتے یہ بدیاں ہمارے معاشرے میں راہ پا جائیں یہ سمجھانا ہی اول تو بہت حد تک کافی ہو جائے گا۔ اور اگر اس کے باوجود کوئی نہ سمجھے تو پھر معذرت سے ان سے جدا ہونا اگر ان کی دل آزاری کا موجب بنتا بھی ہے تو قصور پھر جدا ہونے والے کا نہیں ہے۔ اس نے ادب اور احترام سے علیحدگی میں بات کر لی ہے۔ اور یہ نہیں کہ جب تقریب شروع ہو گی تو ایک دم جم گھٹا کر کے کچھ لوگ اٹھ کر چلے گئے جس طرح اسمبلیوں میں واک آوٹ ہوتے ہیں۔ یہ ہرگز میں نے نہیں کہا ایک تہذیب ہے، ایک سلیقہ ہے اور وہ سلیقہ قرآن کریم نے یہ سکھایا ہے کہ اس کے بعد مستقل تعلقات منقطع نہیں کرنے قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تک یہ بات ہو مجلس میں اس وقت تک اٹھ کے باہر رہو جب وہ بات ختم ہو جائے تو پھر واپس آؤ۔ اگر آپ نے جدائی کی طرز ایسی