خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 920 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 920

خطبات طاہر جلد ۱۲ 920 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور سے وہ و اس کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔ وہ اس کرتا ہے۔ وہ اس کے دشمنوں کے مقابل پر آپ نکلتا ہے اور شریروں پر جو اس کو دکھ دیتے ہیں آپ تلوار کھینچتا ہے۔ ہر میدان میں اس کو فتح دیتا ہے اور اپنی قضا و قدر کے پوشیدہ راز اس کو بتلاتا ہے۔ غرض پہلا خریدار اس کے روحانی حسن و جمال کا جو حسن معاملہ اور محبت ذاتیہ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ خدا ہی ہے۔ پس کیا ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جو ایسا زمانہ پاویں اور ایسا سورج ان پر طلوع کرے اور وہ تاریکی میں بیٹھے رہیں۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۲۵) یہ ذکر جیسا کہ واضح ہے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ذکر چل رہا ہے جب فرماتا ہے وہ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے تو معاً قرآن کریم کی اس آیت کی طرف توجہ منتقل ہوتی ہے۔ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَبِّى (الانفال: ۱۸) اے اے محمد ! تو نے دشمن پر کنکریوں کی مٹھی نہیں پھینکی ، جب تو نے پھینکی۔ وہ اللہ تھا جس نے پھینکی اور دوسری جگہ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح :(۱) کہہ کر صحابہ پر جو ہاتھ تھا اسے اللہ کا ہاتھ قرار دے دیا۔ پس ذکر الہی وہی ہے جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ سے سیکھا اور خدا تعالیٰ کی ہدایت کے تابع اپنی ذات میں جاری کر کے دکھا دیا اسی ذکر کو پکڑیں اسی میں ساری کامیابی ہے وہی خدا سے دوستی بنانے کا ایک وسیلہ بنتا ہے اس کے سوا ساری ذکر کی باتیں محض افسانے اور کہانیاں ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔