خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 896 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 896

خطبات طاہر جلد ۱۲ 896 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء پس صفات باری تعالیٰ پر غور کرنا اور اسے یاد کرنا اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے اس مفہوم کو سمجھنا یہ ذکر کے پہلے معنی ہوں گے یعنی حفظ کرنا اللہ کو اور اس کے طبعی نتیجے کے طور پر پھر خدا تعالیٰ زبانوں پر جاری ہونا شروع ہو جائے گا اور ایسے لوگ جن کو خدا حفظ ہو جائے ۔ وہ لازما اس کا ذکر کرتے ہی رہتے ہیں ۔ حافظ قرآن دیکھ لیں جہاں اچھے حافظ قرآن ہوتے ہیں ۔ بات بات پر ان کو آیتیں یاد آتی ہیں ۔ بات بات پر وہ بیان کرتے ہیں دیکھو فلاں آیت میں یہ لکھا ہوا ہے۔ پس اس پہلو سے خدا کو حفظ کریں اور خدا کا ذکر کیا کریں ۔ پھر ذَكَرَ الشَّيْءَ اِسْتَحْضَرَۂ یعنی کوشش کر کے ذہن میں کسی چیز کو لا نا یہ بھی ذکر کہلاتا ہے۔ کوئی چیز آپ کو یاد آ رہی ہوتی ہے جیسے کوئی چیز آپ کے ذہن میں تھی اس وقت اچانک سامنے نہیں آتی ۔ تو آپ سوچتے ہیں بعض دفعہ آپ ماتھا بجاتے ہیں۔ ٹھہر ٹھہر وایک بات مجھے یاد آ رہی ہے۔ کوشش کر کے اس کو کھینچ کر لے آتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق کہ اگر خود بخود بھی وہ ذہن میں نہ ابھرے تو چونکہ دل اٹکا ہوا ہو اس لئے دل چاہے کہ وہ بات آپ کو یاد آئے جو اللہ سے اس تعلق کو جوڑ دے اور کوشش کر کے خدا کے ذکر میں ان باتوں کو تلاش کرنا جو موقع اور محل کے مطابق ہوں یہ بھی ذکر الہی ہے اور اس میں محنت کرنی پڑتی ہے۔ بعض لوگ بھول جاتے ہیں وہ بعض دفعہ علامتیں بنالیا کرتے ہیں یاد رکھنے کے لئے اور اس لئے ذکر کے معنوں میں وہ گانٹھ بھی آتی ہے جو لوگ رو مال میں دے لیتے ہیں یا کپڑے میں دے لیتے ہیں تا کہ اس گانٹھ سے وہ بات یاد آ جائے جس کی خاطر وہ گانٹھ دی گئی تھی۔ لیکن وہ بات بھی ان کو یاد آتی ہے جن کے ذہن میں گانٹھ کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے ورنہ بعض لوگ تو گانٹھوں پر گانٹھیں دیتے جاتے ہیں۔ ایک شخص تھا اس کو کسی نے دیکھا اس کا رومال سارا گانٹھوں سے بھرا پڑا تھا۔ ایک کنارے ے کنارے تک گانٹھیں ہی گانٹھیں چل رہی تھیں ۔ اس نے کہا تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا سے دوسرے یہ جو گانٹھ میں نے جو دی ہے ناں پہلی اس لئے دی تھی کہ ایک میں بات بھول جاتا ہوں میری بیوی نے مجھے کچھ کہا تھا تو میں نے گانٹھ دے دی کہ مجھے یاد آ جائے تو اس نے کہا پھر وہ دوسری گانٹھ اس نے کہا مجھے گانٹھ کا یاد نہیں رہتا کہ کیوں دی تھی۔ تو وہ دوسری گانٹھ میں نے اس لئے دی تھی کہ پہلی گانٹھ یاد آ جائے ۔ اور اسی طرح تیسری اور چوتھی اور پانچویں۔ تو اگر اللہ سے تعلق نہ ہوا اور خدا سے اتنی واقفیت