خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 886 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 886

خطبات طاہر جلد ۱۲ 886 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء بے اطمینانی سے پاگل ہوئے ہیں۔ جو دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک، جو دنیا کو امن دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کے اپنے گھر امن سے خالی پڑے ہیں۔ اپنے سینے اجڑے ہوئے ہیں۔ تو آپ ان کو بتائیں اور خصوصیت سے ان اقوام کو جو صدیوں سے مظلوم ہیں اور اب وہ کسی طرح طمانیت کی تلاش کر رہی ہیں۔ ان کو سمجھائیں کہ Infriorty Complex یعنی احساسِ کمتری میں کہیں طمانیت نہیں ملے گی آپ کو ۔ انتقام میں کوئی طمانیت نہیں ہے۔ دنیا کی لذتوں کی پیروی میں کوئی طمانیت نہیں ہے اگر طمانیت ہے تو ذکر اللہ میں ہے۔ یہ مضمون جوں جوں آگے بڑھے گا اور کھلتا چلا جائے گا آپ کو نہ صرف سمجھ آئے گی بلکہ دل کی گہرائیوں تک یہ یقین اتر جائے گا کہ قرآن کا یہ دعویٰ سب دعوؤں سے سچا ہے کہ اس دنیا میں طمانیت سوائے ذکر الہی کے اور کسی طرح نصیب نہیں ہو سکتی ۔ مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ گوئٹے مالا نے جو عورتوں کے حقوق پر اجتماع رکھا ہے۔ یہ مشترکہ اجتماع ہونے کے لحاظ سے اس میں ایک خاص، ایک دلچسپی کی بات پیدا ہو گئی ہے۔ یعنی عورتیں ہی صرف عورتوں کے حقوق کی بات نہ کریں بلکہ مرد بھی عورتوں کے حقوق کی بات کریں۔ اس کا اگلا قدم پھر یہ ہونا چاہئے کہ مردوں کے حقوق پر بھی دونوں اجتماع اکٹھے ہوں یعنی صرف ایک طرف کی باتیں نہ ہوں ، دوسری طرف کی بھی باتیں ہوں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کئی مرتبہ بیان کیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں وہ پہلا مرد جس نے عورتوں کے حقوق کی باتیں کی ہیں وہ حضرت محمد مصطفیٰ تھے اور وہ باتیں فرمائی جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہیں فرمائیں اور نہ آئندہ زمانوں میں کبھی کوئی پیدا ہو سکتا ہے جو عورتوں کے حقوق کے متعلق ایسی پیاری تعلیم دے سکے۔ تعلیم تو آسمان سے اتری اللہ نے نازل فرمائی لیکن جس دل پر نازل فرمائی وہ دل پہلے ہی عورتوں کے لئے ایک حسین اسلوب رکھتا تھا۔ ایک حسین انداز تھا۔ پس حضرت خدیجہ سے جو آپ کو حسن سلوک تھا وہ تعلیم کے بعد کب ہوا ہے، وہ تو پہلے کا تھا۔ آنحضور ﷺ نے حضرت خدیجہ سے وحی کے نزول سے بہت بہت : پہلے شادی کی اور وہ سارا دور جو آپ کے حسن سلوک کا ہے اس دور میں اور تعلیم کے بعد کے دور میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ دل جس پر آسمان سے نورا تر اتھا وہ مجسم نور تھا اور کوئی ایک ذرہ بھی عورت کے حقوق کی ادائیگی میں آپ نے کمی نہیں فرمائی۔ ورنہ حضرت خدیجہ اس حوالے میں بعد میں بات کرتیں کہ اللہ نے یہ فرمایا اب مجھے یہ حقوق دو، وہ حقوق دو، زیادہ صلى الله