خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 866
خطبات طاہر جلد ۱۲ 866 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء کالعدم سمجھتے ہوئے اب یہ جماعت نوٹ کر لے کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو چندوں کی عادت ڈالنا خصوصیت سے تحریک جدید میں شامل کرنا یہ ماؤں کا فرض ہے اور ماؤں کا انفرادی فرض تو ہے ہی لیکن لجنہ اماءاللہ کا اجتماعی فرض بھی ہوگا وہ اپنے ذمہ یہ کام سنبھالیں۔ اجتماعات کے سلسلے میں سب سے پہلے تو شوری کی بات ہے۔ شوری کا نظام جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا نظام خلافت کے بعد نظام اسلام میں سب سے زیادہ اہم نظام ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس کا نبوت سے بھی تعلق ہے اور نبوت کے بعد خلافت سے بھی تعلق ہے سب سے زیادہ صاحب فہم اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب نبی ہوتا ہے۔ صاحب فہم عام معاملات میں میں کہہ رہا ہوں ۔ یعنی اس کی عقل اتنی روشن ہوتی ہے کہ دنیا کے عام معاملات میں بھی سب سے زیادہ صاحب فہم ہوتا ہے اور تعلق باللہ کے نتیجے میں جو فیض اس کو عطا ہوتے ہیں ان میں اور کوئی غیر نبی برابر کا شریک نہیں ہو سکتا اور ان سب میں سب سے زیادہ فیض یافتہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملے تھے۔ جن کی نبوت سے پہلے کی کیفیت کو بھی اللہ تعالیٰ نے نور کے طور پر بیان فرمایا۔ فرمایا وہ پہلے ہی نور تھا ہاں جب شعلہ الہام نور بن کر اس کے دل پر اترا ہے تو نُورٌ عَلَى نُورٍ (النور : ۳۶) ہو گیا ۔ ایک نور دوسرے نور پر اترا ہے۔ کسی شخصیت کا اتنا خوبصورت اور اتنا پاکیزہ تعارف دنیا کے کسی اور مذہب میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا اور اس لئے دکھائی نہیں دے گا کہ ایسا ہوا ہی کبھی نہیں کہ کوئی شخص نبوت سے پہلے ہی مجسم نور ہو اور ادنی بھی شائبہ اس میں ظلمت اور تاریکی کا نہ پایا جائے۔ پس آنحضرت نُورٌ عَلَى نُورٍ تھے اور دنیا میں آپ کی فراست کا تعلق بھی اسی نور سے تھا یعنی ہر معاملے میں آپ صاحب فہم اور صاحب فراست تھے اور نور اس حالت کو کہتے ہیں جس میں دکھائی دیتا ہے۔ جب ایک الله للعروسه صلى الله چیز صاف اور واضح دکھائی دے اس کو دراصل عقل کہا جاتا ہے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے سب عقلمندوں سے بڑھ کر عقل مند تھے اور آئندہ بھی آپ سے بہتر عقل مند انسان پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن آپ کو بھی مشورے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ( آل عمران : ۱۶۰) جب اہم امور کی باتیں ہوں تو ان سے مشورہ کر لیا کرو۔ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (آل عمران : ۱۶۰) لیکن پھر مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ تو نے کرنا ہے۔ پس مشورے کی قیمت اپنی جگہ ہے ۔ نبیوں الله علوسم میں سے بھی نبیوں کا نبیوں کا سرتاج حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بھی خدا تعالیٰ نے اس معاملہ میں مستثنیٰ قرار نہیں