خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد ۱۲ 841 خطبه جمعه ۲۹ را کتوبر ۱۹۹۳ء کرنا ہے؟، کس حد تک جانا ہے؟ کس حد سے آگے قدم نہیں بڑھانا ایک وہ بیان ہے کہ دیکھو ان حدود کے اندر رہتے ہوئے جو چاہو کرو کہ دیکھو ان تعلقات می جو چاہو کرو کہ دیکھو ان تعلقات میں ایسے نہ بڑھ جانا کہ تم سے یہ سلوک ہو جائے۔ یہ مضمون بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رماتے ہیں : ”۔۔۔ انسان کی زندگی کا یہ مدعا ہو جائے کہ وہ صرف تنعم کی زندگی بسر کرے اور اس کی ساری کامیابیوں کی انتہا خوردونوش اور لباس و خواب ہی ہو اور خدا تعالی کے لئے کوئی خانہ اس کے دل میں باقی نہ رہے ، تو یاد رکھو کہ ایسا شخص فطرة اللہ کا مقلب ہے۔ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۱۸) بہت ہی پیارا کلام، بہت ہی گہرا عارفانہ کلام ہے۔ میں نے آپ سے پہلے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے اس کا ایک نیا مطلب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت سے میرے ذہن پر ابھرا ہے اور بہت ہی پیارا مطلب ہے۔ اللہ کی فطرت میں تو دنیا کی کوئی آلودگی نہیں ہے ، اللہ کی فطرت میں نہ کھانا پینا، نہ اس کی ضرورت ہے، نہ آرام کی ضرورت ہے، نہ دنیاوی تنعم اس کی فطرت اور مزاج کے مطابق ہے۔ تو وہ انسان جوان چیزوں پر انحصار کر جاتا ہے۔ وہ فطرۃ اللہ کا مقلب یعنی الٹ بن جاتا ہے۔ وہ خالصہ ان چیزوں کا ہو کر رہتا ہے۔ پس اگر چہ انسان کلیۂ خدائی صفات اختیار نہیں کر سکتا۔ مگر اس حد تک خدائی صفات اختیار کرنے کا اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موقع ملتا ہے کہ وقتاً فوقتاً خدا کی خاطر ان چیزوں سے منہ موڑ کے، ان چیزوں سے رشتہ توڑ کر وہ بظاہر محرومی اختیار کر لیتا ہے اور یہ جھلکیاں ہیں جو خدا کی فطرت کی اس کی ذات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ اس کی نجات کا موجب بنتی ہیں اور اس کے برعکس، فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی فطرت کا مقلب ہے۔ خدا کی فطرت میں جو باتیں ہیں اس کے برعکس وہ بن جاتا ہے دنیا کا کیڑا ہو کر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ موت ہے اس میں کوئی زندگی نہیں۔ پھر کی میں فرماتے ہیں: مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه : ۹۰) بڑا بد نصیب انسان ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لے ۔ اسی کا دوسرا