خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 838 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 838

خطبات طاہر جلد ۱۲ 838 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء اس جائے پر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں (در مشین صفحہ :۱۵۲) پس وہ لوگ جو دنیا سے دل لگا کر دنیا کی محبتوں میں منہمک ہو جاتے ہیں ان کی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کی موت ہمیشہ بے اطمینانی کی موت ہوتی ہے، کبھی انہیں زندگی سے سچی طمانیت نہیں ملتی کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : ٢٩) خبردار سچی طمانیت صرف اللہ کے ذکر سے ملے گی کیونکہ اسی ذکر کی خاطر دل پیدا کئے گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے فارسی کلام میں فرماتے ہیں: هر چه غیر خدا بخاطر تست آں بت تست ، اے بایاں سست پر حذر باش، زیں بتان نہاں دامن ، دل، ز دست شاں پر ہاں (در مشین فارسی صفحہ:۲۶) - که هر چه غیر خدا، بخاطر تست ۔ اے سست ایمان والے ہر وہ خدا کا غیر جو تیرے دل میں ہے یہ تیرے دل کا ایک بت ہے۔ پر حذر باش، زمیں بتان نہاں لازم ہے تجھ پر کہ ان چھپے ہوئے بتوں سے خوفزدہ رہو ان سے بچ کر رہو ۔ دامن ، دل ، ز دست شاں پر ہاں اپنے دل کا دامن ان کی قید سے چھڑالو اور آزاد ہو جاؤ ۔ پس تقبل کا یہ معنی ہے کہ اپنے دل کے مخفی بتوں سے انسان رہائی پائے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ انسان اس دنیا میں اس طرح مر جائے کہ دنیا کے آرام ، دنیا کی نعمتیں، دنیا کی لذتوں سے کلیہ کنارہ کش ہو جائے اور ایک فقیر کا کمبل اوڑھ کر اس دنیا سے الگ ہو جائے ، تو یہ درست نہیں ہے کہ مقام تبتل اس مقام سے زیادہ مشکل ہے جس مقام میں فقیر دنیا سے پناہ مانگتے ہیں اور علیحدگی اختیار کر جاتے ہیں ۔ تبتل کا مطلب ہے کہ اس دنیا میں رہنا ، اس کے ساتھ ساتھ چلنا ، ہر روز اس کی لذتوں اور کشش سے آزمائے جانا اور ہر لمحہ اس بات پر نگران ہونا کہ یہ تمام لذتیں خدا تعالیٰ کے تعلق کے مقابل پر پہنچ ہیں۔ جہاں میں اس دوراہے پر آؤں گا کہ جہاں ایک طرف لذتیں ہوئیں دوسری طرف خدا کی محبت ہوئی تو ان لذتوں کو اس طرح ترک کر دوں گا جیسے ایک بد بودار مردار کو انسان چھوڑ کر الگ ہو جایا کرتا ہے۔ یہ وہ تقبل کی روح ہے ورنہ