خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 80
خطبات طاہر جلد ۱۲ 80 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء کی موت کے لئے مقرر فرمادی گئی ہے جب وہ آتی ہے تو پھر اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوا کرتی۔ واللہ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے جو تم کرتے ہو۔ گزشتہ خطبہ میں جو آیت کریمہ میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی اس کا مضمون ان لوگوں کے سامنے رکھی تھی اس کا مضمون ان آیت کریمہ میں نے آپ کے سائے سے تعلق رکھتا تھا جو خدا کی یاد پر دنیا کے اموال اور دنیا کی نعمتوں کو آگے بڑھانے میں زیادہ مصروف دنیا عمل رہتے ہیں اور خدا کی یاد پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور خدا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ان کا کیا انجام ہے اس کا پہلے ذکر گزر چکا ہے۔ ان کو دنیا کی دوڑ خدا کی طرف جانے سے غافل کر دیتی ہے فرمایا کہ اے ایمان لانے والو تم ایسے نہ بننا کیونکہ اگر تم بھی خدا کی راہ میں آگے بڑھنے سے اس لئے غافل رہ گئے کہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال کے تقاضے تمہیں دوسری طرف بلاتے ہیں تو لازماً تم بھی گھاٹا پانے والوں میں سے ہو گے۔ یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے یہاں اس کے معاً بعد اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ دیکھو ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب تم میں سے ہر ایک پر موت آئے گی اور وہ وقت ایسا ہے جو ٹالا نہیں جا سکتا اس وقت کے بعد اس دنیا کا حساب اس دنیا میں منتقل ہونے کا وقت آجاتا ہے جو خرچ تم پہلے نہیں کر سکے پھر اس کے خرچ کرنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا اس لئے یہ نہ ہو کہ تم پر ایسی حالت میں موت آئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے تقاضا کرو کہ اے خدا کیوں نہ تم نے ہمیں کچھ مدت کے لئے اور مہلت دے دی اگر تو مہلت دیتا تو ہم بھی اچھے کام کرتے ہم بھی نیکیوں میں آگے بڑھتے ۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دو طرح دیا اول یہ کہ جب خدا کی طرف سے آخری وقت مقررہ آجائے اس میں کوئی تبدیلی نہیں، کوئی اس وقت کو ٹال نہیں سکتا نہ خدا تعالیٰ اس کو آگے بڑھائے گا دوسرا جواب یہ ہے وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ مہلت مل جاتی تو ہم اچھے کام کرتے تو یہ جھوٹ ہے اگر ایسی بات ہوتی تو خدا ضرور مہلت دیتا۔ وَاللهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اللہ تمہارے اعمال سے کتنا گہرا با خبر ہے کہ ان اعمال پر نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ فرمایا گیا ہے اس لئے یہ وہم کہ ہمیں اور مہلت ملتی تو اور نیکیاں ہم اختیار