خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد ۱۲ 820 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء جو فیصلے کرے جب بھی کرے اس پر عمل درآمد کی کسی کو توفیق ملے یا نہ ملے لیکن ایک قضاء ہے جو آسمان پر قائم ہے اس قضاء کے فیصلوں اور اس کی تنفیذ سے کوئی دنیا میں بچ نہیں سکتا۔ اس لئے میں ساری جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی کا حق ان کے مال میں شامل ہے تو اس حق کو الگ کر دیں ۔ وہ جہنم کا کا ٹکڑا ہے جو ان کے پیٹ میں جا چکا ہے جب تک وہ اس پیٹ میں ہے وہ سارے نظام کے لئے جہنم اور آگ پیدا کرنے کا موجب بنا رہے گا اور قیامت کے دن وہ پکڑیں جائیں گے۔ صلى الله اس لئے آنحضرت ﷺ نے قتل کی جو صیح تعریف فرمائی ہے اس کے پیش نظر سب سے پہلی بات یہ کریں کہ اپنے اموال میں اپنی جائیدادوں میں، اپنی ملکیتیوں میں سے سب غیر کے حقوق نکال دیں اور پھر اپنے اموال پر غیروں کے حقوق خود قائم کریں اور خدا کی خاطر مال سے بے رغبتی کے نمونے دکھائیں۔ یہ جو دوسرا قدم ہے یہ احسان کا قدم ہے۔ اگر دنیا پر انسان کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور خدا کی محبت باقی رہ جاتی ہے تو پھر جہاں بھی کوئی محروم نظر آئے گا۔ جہاں بھی سائل دکھائی دے گا، جہاں بھی کوئی تکلیف میں مبتلا شخص سامنے آئے گا انسان خدا کی خاطر اس کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ خدمت کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس بہنوں کا حق تو ایک ایسا عظیم حق ہے کہ حضرت عمرؓ کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عورت کی مثال ان کے سامنے بیان کی گئی کہ وہ اپنے بھائی کی مدح میں گیت کہتے ہوئے تھکتی نہیں ۔ مسلسل کہتی چلی جاتی ہے اور ہمیشہ اس کی تعریف میں رطب اللسان رہتی ہے تو حضر ال سے پوچھا کہ یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ یہ کیا دیوانگی ہے کہ ایک شخص کے ذکر سے تم تنگ ہی نہیں آرہی، تھک ہی نہیں رہیں ۔ اس نے کہا آپ کو پتا نہیں میرا بھائی کیسا تھا۔ وہ تو ایسا تھا کہ میرے ماں باپ کی وفات کے بعد آدھی جائیداد برابر بانٹ کر میرے سپرد کر دی۔ ابھی اسلام کی وراثت کا نظام نہیں آیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے اور میرا خاوند عیش و عشرت میں مبتلا عیاش، غیر ذمہ دار ، اس نے وہ ساری جائیداد ضائع کر دی۔ میرے بھائی کو پتا چلا۔ پھر اس نے اپنی جائیداد آدھی کی اور آدھی میرے سپرد کر دی ۔ وہ کہتی ہے سات دفعہ اس طرح ہوا ہے، سات دفعہ میرے خاوند نے اس نیک بھائی کی جائیداد ضائع کی اور سات دفعہ اس نے پاک کمائی میں سے آدھا کر کے میرے سپرد کر دیا کہ لو تم تکلیف میں نہ رہو۔ یہ ذکر سن کر حضرت عمر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ نے صاد فر ما دیا