خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 811
خطبات طاہر جلد ۱۲ 811 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء ارادے بھی اس کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ پس آنحضرت ﷺ نے قبل ان تشغلوا جو فرمایا تو مراد یہ ہے کہ نیک کاموں کے علاوہ ایسے مشاغل میں مبتلا ہو جاؤ جو تمہیں نیک کاموں سے غافل کر دیں، جن کی وجہ سے تمہارے نیک مواقع ہاتھ سے جاتے رہیں۔ تشغلوا میں ایک اور بھی تنبیہہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر تمہیں مصیبتوں میں مبتلا فرمادے تم ایسے گورکھ دھندوں میں پڑ جاؤ جو تمہارے لئے تکلیف کا موجب بنیں اور پھر نیک اعمال کی طرف لوٹنے کی تم میں صلاحیت ہی نہ رہے۔ تشغلوا میں مرضیں بھی آجاتی ہیں ایک صحتمند انسان عبادت کا جیسا حق ادا کر سکتا ہے بیمار نہیں کر سکتا لیکن اگر انسان صحت کے ہوتے ہوئے عبادت سے غافل رہے تو بسا اوقات ایسے انسان میں ایسی بیماریاں آجاتی ہیں کہ وہ پھر عبادت کے لائق ہی نہیں رہتا یہ مضمون بڑا وسیع ہے۔ ہر نیکی کی راہ میں کوئی نہ کوئی بیماری حائل ہو سکتی ہے۔ پس آنحضور نے قبل ان تشغلوا کہہ کر احتمالی بیماریوں کا بھی ذکر فرما دیا احتمالی حادثات کا بھی ذکر فر ما دیا اور کئی قسم کے گورکھ دھندے جو انسان کو گھیر لیتے ہیں اور انسان ان میں مبتلا ہو جاتا ہے ان کا بھی ذکر فرمادیا اور اس بنیادی فطرت انسانی کا بھی ذکر فرمادیا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو نیک ارادوں پر تیار پاتا ہے اس وقت وہ ارادہ اگر عمل میں نہ ڈھلے تو وقت ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔ پس اس پہلو سے توبوا الى الله قبل ان تموتوا كا مضمون : وا کا مضمون جو دراصل تقتل سے تع سے تعلق رکھتا ہے اس کے یہ سارے پہلو بھی ہمارے سامنے آگئے ۔ یعنی تقتل ہر اس موقع پر اختیار کیا جا سکتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں ایک روحانی تحریک پیدا ہو رہی ہو۔ اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ ٹکڑا ٹکڑرا تقبل کی توفیق مل سکتی ہے۔ جب دل میں ایک نیکی کی لہر دوڑی اس حصہ پر عمل کر لیا کیونکہ وہ عمل کرنے کا سب سے زیادہ آسان موقع ہے کہ دل کی ہوائیں اور دل کے مزاج اس نیکی کو اختیار کرنے کے مطابق چل رہے ہیں ، ان کے مخالف نہیں چل رہے۔ اس پہلو سے تقتل کو اختیار کرنے کے طریق ہمیں سمجھا دیئے گئے کہ اگر تم زور اور کوشش کے ساتھ تقبل اختیار کرنے کی کوشش کرو گے یعنی بعض بدیاں چھوڑ کر نیکیوں کی طرف آنے کی کوشش کرو گے تو ممکن ہے کہ تمہیں توفیق نہ ملے۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ایسے وقت تم پر ضرور آئیں گے جب نیکی کی طبعی تحریک دل میں پیدا